گیس کے بلوں میں انفراسٹرکچر ڈولپمنٹ سرچارج کالعدم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت پائپ لائن بچھانے پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے

لاہور ہائیکورٹ نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے گیس کے بلوں میں انفراسٹرکچر ڈولپمنٹ سرچارج کی وصولی کے آرڈیننس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمے کو اس سرچارج کی وصولی سے روک دیا ہے۔

سرچارج کی وصولی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں لگ بھگ تین سو درخواستیں دائر کی گئیں تھی۔

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کے نام پر سرچارج کی وصولی بلاجواز ہے۔

اس منصوبے پر کام نہیں ہو رہا لیکن صارفین سے رقم وصول کی جا رہی ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ڈولپمنٹ سرچارج کی وصولی روکا جائے اور اس مد میں وصول کی گئی رقم واپس کروائی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کو گذشتہ کئی سالوں سے قدرتی گیس کی قلت کا سامنا ہے اور موسمِ سرما میں یہ بحران شدت اختیار کر جاتا ہے

عدالت میں وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ انفراسٹرکچر ڈولپمنٹ سرچارج پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل کی غرض سے عائد کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی گئی ہے۔ لہٰذا اس اپیل کے فیصلے تک لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر فیصلہ موخر کر دیا جائے۔

تاہم لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر کام نہیں ہو رہا اس لیے صارفین سے منصوبے کے نام پر اضافی رقم وصول کرنا بلاجواز ہے۔

انھوں نے محکمے کو سرچارج کی وصولی سے روک دیا اور وصول کی جا چکی رقم کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا۔ جس کے بعد کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں