مدین: پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد نافذ کرفیو ختم

پاکستان کے ضلع سوات کے سیاحتی مقام مدین میں جمعرات کو ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے واقعے کے بعد علاقے میں نافذ کرفیو اٹھا لیا گیا ہے۔

جمعرات کو نامعلوم افراد نے سپیشل فورس پولیس اہلکار محب اللہ جان کو ان کے ڈیرے میں گلا کاٹ کر ہلاک کرنے کے بعد علاقے میں کرفیو فانذ کیا گیا تھا۔

تھانہ مدین کے محرر محب زادہ کے مطابق کرفیو کے دوران علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا اور اس میں سکیورٹی اہلکاروں کو کھوجی کتوں کی مدد بھی حاصل تھی۔

ابھی تک سرچ آپریشن میں کسی گرفتاری کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چند مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کرفیو کے خاتمے کے بعد علاقے میں کاروباری مراکز کھل گئے ہیں اور لوگ نے عید کی خریداری کے لیے بازاروں کو رخ کیا ہے۔

شدت پسندی سے متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا کی مختلف اضلاع میں ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس میں پولیس اہلکار، امن کمیٹیوں کے ممبران یا کسی سیاسی پارٹی کےکارکن کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

بتایاجاتا ہے کہ سنہ 2006 سے اب تک خیبر پختونخواہ میں ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار خودکش حملوں، بم دھماکوں اور دیگر واقعات میں ہلاک جبکہ دو ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔

مالاکنڈ ڈویژن کے ضلع سوات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2009 سے اب تک مختلف علاقوں میں 123 پولیس اہلکاروں کو مختلف واقعات میں مارا گیا ہے۔

سوات میں امن کی بحالی کے بعد اب تک عوامی نیشنل پارٹی کے 275 کارکنان بھی عسکریت پسندوں کا نشانہ بنے ہیں۔

سوات میں عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر شیر شاہ کے مطابق سوات میں اس قسم کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

اسی بارے میں