سوات میں فائرنگ، امن کمیٹی کے رکن سمیت دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوات میں گذشتہ کچھ عرصے سے شدت پسندی کے واقعات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما اور امن کمیٹی کے رکن محمد اشرف خان اپنے سرکاری محافظ سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔

سوات کی تحصیل مٹہ کے ایس ایچ او امجد خان نے بتایا کہ محمد اشرف کو سنیچر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے علاقے باماخیلہ سے مٹہ جا رہے تھے۔

حکام کے مطابق محمد اشرف کے ساتھ تعینات پولیس اہلکار بھی فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

مقامی پولیس افسر کے مطابق محمد اشرف کی ہلاکت کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

سوات میں صوبے کی سابق حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے درجنوں کارکن ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہو چکے ہی جس پر پارٹی کی ضلعی قیادت اور مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ سوات میں امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے لیے قائم امن کمیٹیوں کے ارکان کو بھی شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سوات میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف علاقوں میں کرفیو کا نفاذ اور سرچ آپریشن کیے جاتے ہیں۔

وادی میں گذشتہ کچھ عرصے سے شدت پسندی کے واقعات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

سوات کے ہی علاقے مدین میں جمعرات کو پولیس کی سپیشل فورس کے اہلکار کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا جسے بعد میں جمعے کو اٹھا لیا گیا۔

اسی بارے میں