اے این پی کے رہنما اور قبائلی سردار ارباب کاسی بازیاب

Image caption ظاہر کاسی کے اغوا کے خلاف اے این پی نےاحتجاج کیا تھا

ایک برس قبل اغوا کیے جانے والے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور پشتون قبیلے کاسی کے سربراہ نواب ارباب ظاہر کاسی پشاور سے بازیاب ہوگئے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر اچکزئی نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ظاہر کسی کی بازیابی کی تصدیق کی۔

ارباب ظاہر کاسی کو گزشتہ سال 22 اکتوبر کو نامعلوم افراد نے کوئٹہ سے اغوا کیا تھا۔

حکام کے مطابق اغوا کے بعد انھیں وزیرستان منتقل کردیا گیا تھا۔

ان کے اغوا کے خلاف کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔

ارباب کاسی کی بازیابی کے حوالے سے اصغر اچکزئی نے بتایا کہ ان کی رہائی قبائلی عمائدین کے مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ارباب ظاہر کی بازیابی کے لیے تاوان کی ادائیگی کی گئی ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ ارباب کاسی کے اغوا کے بعدان کے بڑے بیٹے عمر فاروق نے ایک پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کیا تھا کہ اغوا کاروں نے ایک ارب روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ خاندان کے لوگوں نے تاوان کی ادائیگی سے انکار کر دیا تھا۔

ارباب ظاہر کاسی کا شمار بلوچستان کے اہم سیاسی اور قبائلی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

وہ عوامی نیشنل پارٹی کے مختلف مرکزی عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ پارٹی کے صوبہ بلوچستان کے صدر بھی رہے ہیں۔

بلوچستان میں قبائلی سربراہان کی اکثریت ذاتی محافظوں کی فوج رکھتی ہے لیکن نواب ظاہر کاسی نے صاحب ثروت ہونے کے باوجود ذاتی محافظ نہیں رکھا تھا۔

اسی بارے میں