انکل الطاف اپنے’نامعلوم‘ افراد کو سنبھالیں: بلاول بھٹو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے عید کے موقع پر تقریر میں وزیر اعظم میاں نواز شریف، عمران خان اور الطاف حسین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کراچی میں پیر کو کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کا اگلا وزیراعظم بھٹو خاندان سے ہوگا۔

بلاول بھٹو نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کو مخاطب کر کے کہا کہ ’انکل الطاف اپنے نامعلوم افراد کو سنبھالیں اگر ہمارے کسی کارکن پر آنچ بھی آئی تو لندن پولیس کیا میں آپ کا جینا حرام کر دوں گا۔‘

متحدہ قومی موومنٹ نے بلاول بھٹو کے اس بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے متعصبانہ اور نفرت انگیز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بیان زبان پھسلنے کا نتیجہ نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی پالیسی ہیں۔

بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں وزیراعظم میاں نواز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ نے جمہوریت کے لیے جلاوطنی کاٹی ہوگی لیکن آپ نے جمہوریت کے لیے شیر کیا، بلی کا بچہ بھی قربان نہیں کیا۔‘

واضح رہے کہ بلاول بھٹو کے والد سابق صدر آصف علی زرداری نے عید لاہور میں منائی ہے جبکہ وزیراعظم میاں نواز شریف سیلاب متاثرین کے ساتھ ہیں۔

آصف علی زرداری جو اس وقت تنظیم سازی کے دورے پر پنجاب میں ہیں میاں نواز شریف پر سخت تنقید سے احتیاط برتی ہے۔

بلاول بھٹو نے شہباز شریف کو شدت پسندوں کا ساتھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’شہباز شریف نے دہشت گردوں کو پناہ دی رکھی ہے اور وہ انھیں اپنا نظریاتی قرار دیتے ہیں۔‘

انھوں نے عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ 60 روز گھر پر نظر بند رہنے کو قربانی نہیں کہتے اور نہ ہی سٹیج سے گرنے کو قربانی سمجھا جاتا ہے۔

’آصف علی زرداری سے معلوم کریں جس نے قید و اذیت کاٹی یا ایاز سموں کے خاندان سے پوچھیں جس نے جنرل ضیاالحق کے مارشل لا میں پھانسی کے پھندے کو چوما تھا۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ خاندانی سیاست کی رٹ لگائے نہیں تھکتے، ہاں پیپلز پارٹی ایک خاندان ہے۔ وہ خاندانی سیاست کرتی ہے اور کرتی رہے گی، سیاست کوئی کھیل نہیں یہ بھٹوز سے سیکھیں اگر ہمیں کرکٹ سیکھنی ہوگی تو آپ کے پاس آئیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہاں وہ یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ ملک کا اگلا وزیر اعظم بھٹو خاندان سے ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 18 اکتوبر کو کراچی میں ایک جلسہ عام کا اعلان کر رکھا ہے اور شہر کی مرکزی شاہراہوں پر جلسے کی تشہیر کے لیے بڑے بڑے بورڈ آویزاں ہیں۔

بلاول بھٹو کارساز سے جلوس کے ساتھ بانی پاکستان کے مزار پر پہنچیں گے، جہاں وہ خطاب کریں گے۔

خیال رہے کہ 18 اکتوبر 2007 میں بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وطن لوٹی تھیں اور کارساز کے مقام پر ان کے استقبالیہ جلوس کو شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں