’ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے تازہ خلاف ورزیاں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat
Image caption پاکستان کے دفتر خارجہ نے لائن آف کنٹرول اور سیالکوٹ ورکنگ باونڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھارت سے باضابطہ احتجاج کیا ہے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں پاک بھارت سرحد کے قریب چاروا سیکٹر میں بھارتی گولہ باری سے چار شہری ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر بھارت نے پاکستانی افواج پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقوں پر فائرنگ کرنے اور دو افراد کی ہلاکت کا الزام عائد کیا ہے۔

پاکستان کی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھارت سے باضابطہ احتجاج کیا ہے اور دفترِ خارجہ کے مطابق یکم اکتوبر سے اب تک بھارت چھ مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ سے سرحدی دیہات دھمالہ میں ایک خاتون سلیمہ بی بی دس سالہ عدیل احمد اور چار سالہ حماد احمد ہلاک ہوگئے جبکہ تلسی پور گاوں میں پینسٹھ سالہ عبدالرزاق بھی بھارتی گولہ باری کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

زخمی ہونے والوں میں تلسی پور کے ستر سالہ محمد اسحاق دھمالہ کے محمد ریشم اور ہرپال گاوں کا دس سالہ کاشف شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پنجاب رینجرز نے بھارتی فائرنگ کے جواب میں گولہ باری کی اور بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کو موثر جواب دیا۔

سرکاری بیان کے مطابق کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر نکیال، کیرالہ کوٹ، کٹیرا ہاٹ سپرنگ اور جندروٹ سیکٹرز میں بھارت کی جانب سے شیلنگ کی گئی تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار شمائل جعفری کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ نے لائن آف کنٹرول اور سیالکوٹ ورکنگ باونڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھارت سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان اور بھارت کے درمیان سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا سلسلہ سرحدوں پر کئی برس کے امن کے بعد 2013 میں شروع ہوا تھا

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عید کے موقعے پر بھارتی گولہ باری اس مبارک موقعے کے احترام کے خلاف ہے اور یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ اس گولہ باری کے نتیجے میں جو ہلاکتیں ہوئیں انھوں نے کئی خاندانوں کو عید کی خوشی سے محروم کردیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیزفائر کی خلاف ورزیوں پر بھارت سے سفارتی سطح پر بھی احتجاج کیا گیا ہے اور یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرحدوں پر تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کا احترام کیا جائے۔

ادھر سری نگر سے نامہ نگار ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پونچھ اور آر ایس پورہ سیکٹروں کی رہائشی بستیوں پر پاکستانی رینجرز نے اتوار کی شب شدید فائرنگ کی جس سے ایک کم سن لڑکی سمیت دو افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوگئے۔

بھارتی حکومت نے بھی اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا سلسلہ سرحدوں پر کئی برس کے امن کے بعد 2013 میں شروع ہوا تھا۔

پچھلے سال اکتوبر میں بھی سیالکوٹ کی سرحد پر بھارتی گولہ باری سے ایک فوجی اور دو شہری ہلاک اور چودہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

حالیہ برس اگست میں ایک مرتبہ پھر سیالکوٹ ورکنگ باونڈری پر پاکستان اور بھارت کے سرحدی محافظوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ جس میں دو شہری ہلاک اور رینجرز اہلکاروں سمیت کئی زخمی ہوئے۔

جس کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے باقاعدہ احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا۔

اگست میں ہی نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیر علیحدگی پسند رہنماوں سے ملاقات کو لے کر بھی بھارت میں خاصی نتقید کی گئی تھی۔ جس کے بعد بھارت نے چھبیس اگست کو طے شدہ دنوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ کی ملاقاتوں کو بھی منسوخ کردیا تھا۔

سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر گذشتہ چندروز سے ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور حسب معمول دنوں جانب سے ایک دوسرے پر پہلے گولہ باری شروع کرنےکا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں