شمالی وزیرستان میں تین دنوں میں چوتھا ڈرون حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption پاکستان میں اس سال 11 جون کو ایک طویل تعطل کے بعد ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں منگل کو دو امریکی ڈرون حملوں میں کم از کم 6 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

اتوار سے اب تک شمالی وزیرستان ایجنسی کو چار مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

پاکستان ماضی میں امریکی ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتا رہا ہے لیکن حالیہ ڈرون حملوں پر بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی سے بات کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کوئی ردعمل دینے یا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

منگل کی شام کو ہونے والے ڈرون حملوں میں شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال کے علاقے کنڈ غر اور اس سے متصل علاقے دتہ خیل کو نشانہ بنایا گیا۔

منگل کی شام دتہ خیل میں ہونے والے حملے میں ایک اہلکار کے مطابق ایک پہاڑی پر بیٹھے چند شدت پسند نشانہ بنے اس حملے میں کم از کم دو شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کے علاوہ چند کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

اس سے پہلے منگل کی صبح شمالی وزیرستان کے تحصیل شوال میں بھی ڈرون حملہ کیا گیا۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس ڈرون حملے میں افغان سرحد کے قریب شوال کی علاقے کنڈغر میں شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ مکان شدت پسندوں کے مقامی کمانڈر کا تھا اور یہاں انھیں تربیت بھی دی جاتی تھی۔

اس سے قبل پیر کی رات افغان سرحد کے قریب منگروتئی میں ڈرون حملے میں حبیب خان نامی شخص کے مکان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق اس مکان میں ازبک شدت پسند بھی پناہ لیے ہوئے تھے اور حملے میں چار شدت پسند مارے گئے جبکہ چند زخمی بھی ہوئے۔

ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق بھی ازبکستان سے بتایا گیا ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

Image caption قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اس وقت فوجی آپریشن جاری ہے

اس سے قبل اتوار کو بھی اسی علاقے میں ایک اور ڈرون حملے کی اطلاعات آئی تھیں جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان میں اس سال 11 جون کو ایک طویل تعطل کے بعد ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا اور شوال میں منگل کو ہونے والا حملہ رواں برس امریکی جاسوس طیاروں کا یہ گیارہواں حملہ ہے۔

رواں برس ڈرون طیارے زیادہ تر شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں رواں برس 15 جون سے فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے بیشتر شدت پسند پاک افغان سرحدی علاقوں کی جانب منتقل ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان ماضی میں بھی ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج کر چکا ہے۔ ڈرون حملوں پر پاکستان کا موقف رہا ہے کہ یہ ملکی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے شدت پسندی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کا موقف ہے کہ ڈرون حملے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار ہیں اور ان کا استعمال قانونی ہے۔

اسی بارے میں