نینو رام آشرم: جہاں ہر جاندار کی آؤ بھگت ہوتی ہے

Image caption دس ایکڑ پہ پھیلے آشرم میں عقیدت مندوں نے ہی آشرم کے مختلف کاموں کی ذمہ داری اُٹھا رکھی ہے

پاکستان میں صوبہ سندھ کے صحرائی خطے تھرپارکر میں خشک سالی اور قحط ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن اِسی خطے کے ایک قصبے اسلام کوٹ میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں غذا کی قلت کا تصور نہیں۔

انسان ہوں یا حیوان، چرند یا پرند، سب کے لیے روزانہ لنگر کا بندوبست کیا جاتا ہے۔

اسلام کوٹ کی اس جگہ کا نام ہے سنت نینو رام آشرم، جہاں ہر جاندار کی آؤ بھگت ہوتی ہے ۔

نیم کے درختوں والے اسلام کوٹ کی آبادی 30 ہزار کے لگ بھگ ہے جن میں سے 95 فیصد ہندو مذہب کے پیروکار ہیں۔

شری سنت نینو رام آشرم کے علاوہ اسلام کوٹ میں تین مندر بھی موجود ہیں۔

Image caption اس آشرم میں روزانہ تقریباً 300 سائلین کے لیے کھانا پکتا ہے

ہندو سادھو شری سنت نینو رام کے نام پر قائم اس آشرم میں روزانہ تقریباً 300 سائلین کے لیے کھانا پکتا ہے، سینکڑوں پرندوں کے لیے باقاعدگی سے باجرے کے ساتھ ساتھ کونڈوں میں پینے کا پانی بھر کر رکھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ آشرم کے داخلی دروازے کے ساتھ ہی چوپایوں کے لیے ایک باڑہ بھی موجود ہے۔

سماجی کارکن کرشنا شرما بتاتے ہیں کہ ’قحط کی صورت میں لوگ اپنے جانور یہاں لا کر باندھ دیتے ہیں جن کے چارے کا بندوبست کرنا آشرم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔‘

آشرم میں ایک کنارے پر نیم کا گھنا درخت لگا ہے جس پہ ہزاروں کی تعداد میں رنگ برنگی پٹیاں یہاں مانگی جانے والی منتوں اور مرادوں کی گواہ ہیں۔

Image caption سینکڑوں پرندوں کے لیے باقاعدگی سے باجرے کے ساتھ ساتھ کونڈوں میں پینے کا پانی بھر کر رکھا جاتا ہے

دس ایکڑ پہ پھیلے آشرم میں آنے والے بعض عقیدت مندوں نے اپنی مرضی سے اس آشرم کے مختلف کاموں کی ذمہ داری اُٹھا رکھی ہے۔

لگ بھگ 70 سال کے بزرگ کاکا خوشحال اور مُکھی لکشمن لال بھی ایسے ہی سیوک ہیں۔ ان دونوں نے 18 سال پہلے محکمۂ مال سے ریٹائرمنٹ لی اور اِس آشرم میں آ کر سماج سیوا میں لگ گئے۔

کاکا خوشحال آشرم کے مالی معاملات کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’آشرم میں نذر نیاز کے لیے لوگ پیسے ڈال کر جاتے ہیں۔ پہلے تو اُس میں سے آٹھ ہزار روپے نکلتا تھا اب تو ڈیڑھ لاکھ سے اوپر نکل رہا ہے مہینے میں۔‘

Image caption کاکا خوشحال کے دوست مُکھی لکشمن لال خود تندور میں روٹیاں لگاتے ہیں

کاکا خوشحال کے دوست مُکھی لکشمن لال خود تندور میں روٹیاں لگاتے ہیں جبکہ لنگر کی تیاری کا ذمہ بھی اُن کے سرہیں۔ لکشمن لال کہتے ہیں کہ ’رات کے بارہ بجے بھی آپ بولیں گے تو دو سو لوگوں کا کھانا آدھے گھنٹے میں تیار کروا سکتا ہوں۔‘

آشرم میں عوامی خدمت میں مصروف کِھمیا شرما بتاتی ہیں کہ ’یہاں روزانہ بوڑھی عورتیں جمع ہوتی ہیں۔ کوئی آٹا گوندھتی ہے، کوئی پنچھیوں کو باجرہ ڈالتے ہے اور پانی بھر کے رکھتی ہے۔ میں جھاڑو لگاتی ہوں۔ پھر پوجا پاٹ کرتی ہوں اور گیتا پڑھتی ہوں جس سے مجھے سکون ملتا ہے۔ آشرم آ کے یہ سارے کام کرنے سے سنت (سادھو) خوش ہوتے ہیں۔‘