کراچی: ٹارگٹ کلنگ میں دو مذہبی رہنما ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ۔ پولیس صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کررہی ہے (فائل فوٹو)

منگل کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے دو مختلف واقعات ہوئے جن میں جمیعت علمائے اسلام اور اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

پہلا واقعہ پیرآباد تھانے کی حدود میں اسلامیہ کالونی کے قریب واقع پراچہ قبرستان کے پاس پیش آیا جہاں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا ساجداللہ کوگولیاں مارکر ہلاک کیا گیا۔

پیر آباد تھانے کے ایس ایچ او ناصر محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا ساجد اللہ پر یہ تیسرا حملہ تھا جس میں وہ ہلاک ہوگئے۔ پہلے دو حملوں کے بعد وہ اس علاقے سے منتقل ہوگئے تھے اور آج یہاں اپنی والدہ سے عید ملنے کے لیے آئے تھے۔ واپس جاتے ہوئے ان کی ٹیکسی پر فائرنگ کی گئی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک جبکہ ٹیکسی ڈرائیور زخمی ہوگیا۔

ناصر محمود کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے اسی لیے انہیں ہدف بنایا گیا۔

دوسرا واقعہ نارتھ ناظم آباد میں ضیاالدین ہسپتال کے قریب پیش آیا جہاں اہلسنت و الجماعت کے مولانا مسعود کو نشانہ بنایاگیا۔ مولانا مسعود کو زخمی حالت میں ضیاالدین ہسپتال لایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔

علاقے کے تھانے کے ایس ایچ او طفیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ سہ پہر پیش آیا تھا جس کے بعد اہلسنت و الجماعت کے کارکنوں نے ہسپتال کی جانب جانے والی سڑک بند کرکے احتجاج شروع کردیا ۔

طفیل احمد کے مطابق پولیس صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود گزشتہ کچھ دنوں سے ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتوں میں ہوگیا ہے۔

گزشتہ ہفتے اہلسنت و الجماعت کے کارکنوں نے شہر میں اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کے طور پر دھرنا بھی دیا تھا۔

اسی بارے میں