پاک بھارت سرحد پر فائرنگ، قومی سلامتی کا اجلاس طلب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سینکڑوں دیہاتوں کے باشندوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر سکولوں اور دوسری عمارتوں میں پناہ لی ہے

پاکستانی اور بھارتی افواج کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا ہے اور ان واقعات میں مزید تین پاکستانی اور دو بھارتی شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق حالیہ جھڑپوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کرنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان نے قومی سلامتی سے متعلق ایک اہم اجلاس جمعے کو طلب کر لیا ہے۔

اس اجلاس میں وزرا کے علاوہ مسلح افواج کے سربراہان بھی شرکت کریں گے۔

جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا یہ تازہ سلسلہ اتوار سے شروع ہوا تھا اور اس میں اب تک کل 17 پاکستانی اور بھارتی شہری مارے جا چکے ہیں۔

سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر تعینات رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل طاہر جاوید نے بی بی سی اردو کی نامہ نگار صبا اعتزاز کو بتایا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھارتی فائرنگ سے مزید تین شہری مارے گئے ہیں۔

فوجی حکام کے مطابق یہ فائرنگ چارواہ، چھپڑار اور ہرپال سیکٹر میں کی گئی اور یہاں ایک گاؤں میں مارٹرگولا لگنے سے ایک شخص ہلاک اور زخمی ہوا۔

اس کے علاوہ چھپڑار سیکٹر میں فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

میجر جنرل طاہر جاوید کا کہنا ہے کہ ورکنگ باؤنڈی پر فائرنگ سے 30 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عسکری حکام نے بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کو بتایا کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے منگل کو ایک شخص ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔

حکام کے مطابق اب تک تین دن میں بھارتی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔

ادھر بھارت کی سرحدی سکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے منگل کی شب کی جانے والی فائرنگ سے ایک خاتون سمیت دو افراد مارے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دونوں جانب سے مارٹر گولے اور ہلاک اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں

بی ایس ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی رات آٹھ بجے کے بعد سرحد پار سے 13 چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام نے بی بی سی اردو کے ریاض مسرور کو بتایا کہ ارنيہ، پرگوال، كاناچك اور پونچھ کے كرني اور بلنوي سیکٹر میں واقع چوکیاں فائرنگ کا نشانہ بنیں۔

بی ایس ایف کے ترجمان دھرمیندر پاریکھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’منگل کی شام سے بدھ کی صبح آٹھ بجے تک سرحد پار سے فائرنگ ہوتی رہی جس سے بی ایس ایف کے تین جوان اور 11 شہری زخمی ہوئے ہیں۔‘

ترجمان نے بتایا کہ چھ اکتوبر سے شروع ہونے والی فائرنگ میں اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 45 زخمی ہیں۔

فائرنگ کی وجہ سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں کے قریب سینکڑوں دیہاتوں کے باشندوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر سکولوں اور دوسری عمارتوں میں پناہ لی ہے۔

پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے معاملے کو اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے جنرل اسمبلی میں ایک بحث کے دوران بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فائر بندی کرے اور امن قائم کرنے میں مدد دے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو فائر بندی کی نگرانی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے۔

مسعود خان نے کہا کہ تصفیہ طلب مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور کشمیر کے بنیادی مسئلے کو وہاں کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا سلسلہ سرحدوں پر کئی برس کے امن کے بعد 2013 میں شروع ہوا تھا اور گذشتہ ڈیڑھ برس میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اسی بارے میں