کراچی میں زہریلی شراب پینے سے 19 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption پاکستان میں صرف غیر مسلم افراد حکومتی لائسنس سے مقرر کردہ جگہوں سے شراب خرید سکتے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے۔

جناح ہسپتال کے شعبۂ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ کچی شراب پینے سے متاثر ہونے والے افراد کی ہسپتال آمد کا سلسلہ منگل کو شروع ہوا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت بھی ہسپتال میں ایسے متعدد افراد زیرِ علاج ہیں جنھوں نے عید کے موقع پر غیرمعیاری طریقے سے کشید کردہ شراب پی اور ان میں سے آٹھ کی حالت تشویش ناک ہے۔

ڈاکٹر سیمی نے بتایا کہ ہلاک شدگان اور متاثرین میں زیادہ تر نوجوان ہیں جن کا تعلق لانڈھی اور کورنگی کے علاقوں سے ہے۔

یہ سندھ میں زہریلی شراب سے ہلاکتوں کا چند ہفتوں میں دوسرا واقعہ ہے۔

قبل ازیں عید سے ایک ہفتہ پہلے صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ایسے ہی واقعے میں دو درجن کے قریب افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں شراب بیچنے اور پینے پر پابندی عائد ہے اور صرف غیر مسلم افراد حکومتی لائسنس سے مقرر کردہ جگہوں سے شراب خرید سکتے ہیں۔

کراچی میں بھی شراب کی فروخت کی 100 سے زائد لائسنس یافتہ دکانیں ہیں۔

تاہم حالیہ واقعے میں جن علاقوں سے متاثرین کو لایا گیا ہے وہاں شدت پسندوں کا زور ہونے کی وجہ سے ایسی دکانیں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں اور وہاں شراب نوش غیر قانونی طور پر کشید کی گئی شراب استعمال کرتے ہیں۔

اسی بارے میں