بھارتی ہیکرز نے پیپلز پارٹی کی ویب سائٹ ہیک کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ PPP
Image caption ہیکنگ کے اس واقعے کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کی جانب سے باقاعدہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے

بھارت سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے پاکستان کی سیاسی جماعت پاکستان پپپلز پارٹی کی ویب سائٹ ہیک کر لی ہے۔

ہیکرز کے بلیک ڈریگن نامی گروہ کی اس کارروائی کو جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کا ردعمل سمجھا جا رہا ہے جس میں انھوں نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی شیلنگ پر تنقید کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم کو متبنہ کیا تھا۔

ہیکرز نے ویب سائٹ پر جماعت کے پرچم کو بھارت کے قومی پرچم سے تبدیل کر دیا ہے اور پاکستانی عوام، فوج اور خصوصاً بلاول بھٹو زرداری کے نام پیغام لکھا ہے کہ ”کسی قسم کے تشدد کے بغیر ہم کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کشمیر کو کبھی نہیں حاصل کرےگا، یہ سچ ہے اور اسے تسلیم کرنا ہوگا۔‘

بھارتی ہیکرز نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ ’اگلی بار کشمیر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں تو بھارتی نقشہ کچھ ایسا ہو جائے گا۔‘ اس دھمکی کے ساتھ ایک نقشہ چھاپا گیا ہے جس میں بھارت پر بھارتی جھنڈا ہے اور پاکستان میں آگ لگی ہوئی ہے۔

بلاول بھٹو نے گذشتہ کچھ عرصے کے دوران کشمیر کے حوالے سے کئی بیانات دیے ہیں۔

منگل کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ایل او سی پر بھارتی شیلنگ ہوئی ہے، لگتا ہے کہ بھارت اسرائیل کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔ مودی کو احساس ہونا چاہیے کہ گجرات کے ہلاک شدگان کے برعکس، پاکستان بدلہ لے سکتا ہے۔‘

اس سے قبل، گذشتہ ماہ ملتان میں بلاول بھٹو نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان کشمیر کے ہر گوشے کو حاصل کر کے رہے گا۔

اس کے ردِ عمل میں بھارتی دفترِ خارجہ نے اس بیان کو حقیقت سے بہت دور قرار دیا تھا جبکہ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا میں بلاول کے خلاف بہت کچھ کہا گیا۔

بلاول ہاؤس کے میڈیا سیل کے ایک رابطہ کار عمیر سولنگی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ بہت گھٹیا حرکت ہے۔ ہماری ویب سائٹ تو ہیک کر لی لیکن اس سے ہمارا موقف تو نہیں بدلا۔ ہمارے سربراہ، پارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی پوزیشن یہی ہے کہ لیں گے لیں گے، کشمیر ہم لیں گے۔‘

عمیر سولنگی نے مزید بتایا کہ ہیکنگ کے اس واقعے کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی اپنا ردِ عمل تیار کر رہی ہے۔’اب تک نو پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، تو ہم چپ تو نہیں رہ سکتے۔‘

خیال رہے کہ پاکستانی اور بھارتی افواج کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ پیر سے جاری ہے جس کی وجہ سے اب تک 17 پاکستانی اور بھارتی شہری مارے گئے ہیں۔

پاکستان اور بھارتی ہیکرز کئی برسوں سے سرکاری اور غیر سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کرتے رہے ہیں۔

اس سال اگست میں پیپلز پارٹی کی ویب سائٹ ہیک کرنے والے گروہ بلیک ڈریگن نے پاکستان ریلویز کی ویب سائٹ بھی ہیک کی تھی جبکہ اس سے پہلے پاکستانی ہیکرز نے بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر ہزاروں ویب سائٹس ہیک کی تھیں جن میں بھارت کے مرکزی بینک کی ویب سائٹ شامل تھی۔

اسی بارے میں