’بڑی خبر‘ کے لالچ میں قید

Image caption صحافی فیض اللہ کو مہم جوئی کی پاداش میں چھ ماہ کی قید کاٹنا پڑی

امریکی مصنف ہیلن کیلر نے کہا تھا کہ ’زندگی یا تو مہم جوئی ہے یا کچھ بھی نہیں،‘ لیکن برطانوی صحافی خاتون یی وون رڈلی سے لے کر فیض اللہ خان کو اسی مہم جوئی کی سزا میں قید بھگتنا پڑی۔

یی وون رڈلی کو 2001 میں طالبان حکومت نے گرفتار کیا تھا جبکہ فیض اللہ کو رواں سال اپریل میں جاسوسی اور طالبان کے انٹرویو کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انھیں ستمبر میں رہائی نصیب ہوئی۔

فیض اللہ کے پاس ویزا نہیں تھا لیکن ’بڑی خبر‘ کے لالچ نے انھیں افغانستان کی حدود میں دھکیل دیا۔ فیض اللہ کے مطابق جب وہ طورخم کے قریب پہنچے تو انھوں نے سوچا کہ شاید خیبر ایجنسی جائیں گے، لیکن طالبان کے فراہم کردہ گائیڈ نے انہیں بتایا کہ وہ سرحد عبور کر کے افغانستان چلے جائیں اور وہاں تک بحفاظت پہنچانا اس کی ذمہ داری ہے۔

’مجھے خوف محسوس ہوا لیکن بعد میں یہ خیال آیا کہ خبر کی تلاش میں صحافی مہم جوئی کر جاتے ہیں، فرض کر لیں کہ اگر میں ویزا لے کر بھی جاتا تو افغان حکام تحریکِ طالبان پاکستان کے رہنماؤں کا انٹرویو تو کرنے نہیں دیتے۔‘

فیض نے بتایا کہ گائیڈ نے انھیں افغانستان میں ایک کار والے کے حوالے کر دیا اور انھوں نے لال پورہ تک کا سفر کیا، وہاں دو مسلح لوگ ان کے منتظر تھے۔ آگے کا سفر انہوں نے کشتی کے ذریعے ایک دریا عبور کر کے کیا جہاں احسان اللہ احسان سے ملاقات ہوئی جو انھیں پاکستان کی سرحد کے قریب گاؤں میں لے گئے جہاں ان کا میڈیا سیل تھا۔

فیض اللہ کراچی میں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے منسلک ہیں اور ان کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے رہنما احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرلیا تھا جبکہ مولوی فضل اللہ اور عمر خالد خراسانی کے انٹرویو کرنے باقی تھے، وہ ان کے انٹرویو کرنے ہی جا رہے تھے کہ افغان حکام نے انھیں حراست میں لے لیا۔

احسان اللہ احسان نے مجھے ایک گاڑی میں سوار دو لوگوں کے حوالے کیا اور ساتھ میں یہ تاکید کی کہ ان کے ساتھ اپنا تعارف نہیں کرانا، بعد میں وہ دونوں بھی گرفتار کیے گئے۔

فیض اللہ بتاتے ہیں کہ پہلے پولیس چوکی اور بعد میں انھیں افغان انٹیلی جنس حکام کے حوالے کیا گیا جہاں وہ 15 روز قید رہے۔ ایک آٹھ بائی چار فٹ کا سیل تھا جہاں پنکھے اور بجلی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔

بعد میں ننگر ہار جیل منتقل کیا گیا اور وہاں جس بلاک میں رکھا گیا اس کو مقامی قیدی گوانتانامو کہتے ہیں۔

افغان عدالت میں استغاثہ نے فیض پر جاسوسی کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا کہ چونکہ اس نے پاکستانی طالبان رہنماؤں کا انٹرویو کیا ہے اور پاکستان یہ کہتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوجائےگی اور دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوجائیں گے۔ بعد میں عدالت نے جاسوسی کے الزام کو مسترد کیا جبکہ دیگر الزامات میں چار سال کی قید سنا دی۔

فیض اللہ خان کے مطابق افغانستان کی جیلوں کا ماحول اچھا ہے کیونکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں کی ٹیمیں وہاں آتی رہتی ہیں جن سے جیل حکام ڈرتے ہیں شاید اسی لیے وہاں قیدیوں پر تشدد وغیرہ نہیں کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے وہاں کٹھن دن گذارے ابتدائی دو ماہ فرش پر سونا پڑا، کمر میں جو تکلیف پہلے سے تھی اس میں اضافہ ہوگیا اس کے علاوہ جیل کی خوراک نے معدے میں خرابی پیدا کردی جبکہ نفیساتی دباؤ الگ رہا۔

’جس بلاک میں مجھے رکھا گیا وہاں چار سو قیدی قید تھے، ان سب کے لیے چار بیت الخلا اور چار غسل خانے تھے، کسی کو بھی چار منٹ تک اندر رہنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی باہر ایک قطار اپنی باری کی منتظر رہتی، پندرہ پندرہ دن میلے کپڑوں میں گزرتے تھے، اس قدر کہ بدبو آنے لگتی تھی۔ جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘

پاکستان میں صحافی تنظیموں اور حکومت کے علاوہ فیض اللہ کا خاندان بھی ان کی رہائی کے لیے سرگرم رہا۔ فیض اللہ نے بتایا کہ جیل میں فیملی سے رابطے کے لیے چار موبائل فون ہوتے تھے، اس میں ایک پاکستان کے لیے تھا اگر آپ کو موبائل مل جائے اور اس میں بیلنس بھی ہو تو آپ خوش قسمت ہوتے تھے۔

وہ کئی مرتبہ چار چار دن تک اپنی باری کا انتظار کرتے تھے، فی منٹ کا جیل حکام سو افغانی چارج کیا کرتے تھے۔

فیض اللہ مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ تو پاکستان کے طالبان سے ملنے نکلے تھے وہاں تو کئی طالبان سے ملاقاتیں ہوگئیں۔ ان میں کچھ ایسے طالبان بھی تھے جو تورا بورا میں اسامہ کے ساتھ رہے تھے۔

ان میں ایک حزب اسلامی کا کمانڈر تھا جس نے بتایا کہ وہ چھوٹا تھا لیکن دوسروں کے ساتھ وہ بھی میزائل پہنچانے گیا تھا وہاں سے واپسی پر اسامہ بن لادن نے اس کو چاکلیٹ دی تھی جو اتنی مزیدار تھی کہ وہ آج تک نہیں بھول سکا۔

ایک دوسرے افغان طالبان نے بتایا کہ اسامہ والی بال کھیلتے تھے طویل قیامت ہونے کی وجہ سے دور سے ہی نظر آ جاتے تھے۔

فیض اللہ کے مطابق ’جیل کا اندرونی نظام طالبان نے سنبھالا ہوا ہے، وہ وہاں نماز پڑھاتے ہیں اور درس و تدریس کرتے ہیں۔ ان کا جیل حکام سے کبھی کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ اس قدر کہ جیل سے باہر بھی ان کا اثر رسوخ ہے اور لوگ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے ان کے پاس آتے ہیں۔ باہر موجود افغان طالبان ان کا خیال رکھتے ہیں اور انھیں جیل کے اندر خرچہ بھیجتے ہیں۔‘

پاکستان میں تو ڈرونز اونچی پرواز پر ہی دیکھے گئے ہیں لیکن فیض اللہ کو انھیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

جلال آْباد میں مسلسل ڈرونز کی پروازیں ہوتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شام کو جب باہر بیٹھے ہوتے تھے تو ہر طرح کے ڈرونز، ہیلی کاپٹر اور جہاز گزرتے تھے۔ افغان طالبان نشاندہی کرتے تھے کہ ان کی گرفتاری کے وقت فلاں جہاز یا ہیلی کاپٹر آیا تھا۔

’انھوں نے مجھے سمجھایا کہ ڈرونز دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک جو حملہ کرتے ہیں اور دوسرے جو جاسوسی کرتے ہیں۔ جب یہ جھکا ہوا ہوتا ہے اور میزائل نصب ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ فائر کرے گا۔ اگر اس کے میزائل اوپر ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ فائر کر کے آرہا ہے۔‘

فیض اللہ نے عام افغانی شہریوں، حکام اور قیدیوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانی پاکستانیوں کو اچھا نہیں سمجھتے اور اس کی جھلک ان کے رویوں میں نظر بھی آتی ہے ۔

جیل میں قید پاکستانی زیادہ تر مزدور ہیں جن کے ویزوں پر چھوٹے موٹے اعتراضات ہیں اور وہ قیدیوں کی خدمت کر کے اپنا خرچہ پورا کرتے ہیں۔

اسی بارے میں