کراچی: ’لائسنس یافتہ دکانوں میں شراب کی قلت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گیان چند ایسرانی کا کہنا ہے کہ کچی شراب میں ہلاکتوں کے واقعے کے بعد سپرٹ ڈیلروں کے 100 سے زائد لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گیان چند ایسرانی کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ لائسنس یافتہ دکانوں میں شراب کی قلت کی وجہ سے لوگ کچی شراب خرید کرنے پر مجبور ہوئے جس کے باعث 27 افراد ہلاک ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ لائسنس یافتہ دکانوں میں شراب کی قلت نہیں ہے، اور انھوں نے شراب کی دکانوں کا سٹاک چیک کیا ہے اور وہاں وافر مقدار میں شراب دستیاب تھی۔

واضح رہے کہ کراچی میں زہریلی شراب پینے سے 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گیان چند ایسرانی کا کہنا ہے کہ کچی شراب پینے سے ہلاکتوں کے واقعے کے بعد سپرٹ ڈیلروں کے 100 سے زائد لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں جبکہ دو ڈائریکٹروں کو معطل کردیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اسی سپرٹ سے کچی شراب بنائی جاتی ہے: ’وہ ٹیکس بھی نہیں دیتے، اس لیے وہ یہ کچی شراب سستے نرخوں پر فروخت کرتے ہیں۔ غریب لوگ اس وجہ سے اس کو اولیت دیتے ہیں اب حکومت نے صوبے بھر میں کچی شراب بنانے والوں کے خلاف جمعے سے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ چند ہفتوں میں سندھ میں زہریلی شراب کے باعث ہلاکتوں کادوسرا بڑا واقعہ ہے۔

قبل ازیں عید سے ایک ہفتہ پہلے صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ایسے ہی واقعے میں دو درجن کے قریب افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں شراب بیچنے اور پینے پر پابندی عائد ہے اور صرف غیر مسلم حکومتی لائسنس سے مقرر کردہ جگہوں سے شراب خرید سکتے ہیں۔

کراچی میں شراب کی فروخت کی 100 سے زائد لائسنس یافتہ دکانیں ہیں۔

اسی بارے میں