کوئی نہیں جانتا یہ جھڑپیں کیسے شروع ہوتی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں وزرائے اعظم کے بیانات سے کشیدگی کم کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر جھڑپوں کا تازہ سلسلہ کوئی نئی بات نہیں۔ پچھلے ایک سال سے یہ جھڑپیں وقفے وقفے سے جاری ہیں۔

یہ کیسے شروع ہوتی ہیں کسی کو نہیں معلوم، ساتھ ہی ساتھ انھیں روکنے کے لیے بھی کوئی غیرمعمولی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔

ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی کئی لوگ وزیر اعظم نواز شریف کی اس تصادم پر خاموشی پر تنقید کر رہے ہیں۔

بھارت کی جانب ہمیشہ نرم رویہ رکھنے والے وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں تو ٹوئٹر پر بعض لوگ اس حد تک لکھ رہے ہیں کہ ’وہ خاموشی سے سیالکوٹ ہندوستان کو دے دیں گے لیکن بولیں گے نہیں۔‘

لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں وزرائے اعظم کے بیانات سے کشیدگی کم کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ وہ جلتی پر تیل کا کام کر سکتے ہیں۔ کوشش بیک چینل ڈپلومیسی کی زیادہ ہے۔

بھارتی وزیر دفاع کے سخت بیان کے بعد پاکستانی وزیر دفاع نے بھی ایک محتاط لیکن سخت جوابی بیان داغا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا، جو ان دنوں واشنگٹن میں ہیں، کہنا ہے کہ ہندوستان کو احتیاط اور ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے نہ کہ سخت بیانات کا:

’پاکستان بھی بھارت کو مناسب جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس تناؤ کو تصادم میں تبدیل نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔‘

پاکستان فوج تو انتہائی احتیاط سے جھڑپوں کے بارے میں مختصر بیانات جاری کر رہی ہے جس میں جانی نقصانات کی تعداد کم ہوتی ہے۔ لیکن پاکستانی الیکٹرانک میڈیا میں ایک مرتبہ پھر بھارت کے خلاف کافی سخت زبان اختیار کی جا رہی ہے۔ ایک ٹی وی چینل کا کہنا تھا:

’بھارت کی جارحیت، پاکستان کا زبردست جواب۔‘ ایک اور نے کہا: ’لائن آف کنٹرول پر بھارت آؤٹ آف کنٹرول۔‘ اس سے تناؤ میں کمی میں مبصرین کے خیال میں مدد نہیں مل رہی ہے۔

پاکستانی فوجی حکام کا الزام ہے کہ بھارت کی جانب سے حملوں میں گزرتے وقت کے ساتھ زیادہ شدت آتی جا رہی ہے اور یہ کشیدگی کئی دہائیوں کے بعد دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پچھلے سال جنوری کے وسط میں دونوں فوجوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں بھی حکام نے انھیں ایک دہائی میں اب تک کی سب سے زیادہ سنگین کشیدگی قرار دیا تھا۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان نئی حکومتوں کے قیام کے بعد امید بندھ چلی تھی کہ بات چیت کا رکا ہوا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا، لیکن موجودہ حالات میں ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

کچھ لوگ یہ سوچنے پر بھی مجبور ہیں کہ کہیں اس تازہ کشیدگی کے پیچھے بہتر تعلقات کے دشمن تو نہیں؟

پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کا سب سے اونچا فورم نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا ایک اجلاس وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں منعقد کروایا جا رہا ہے۔ خیال ہے کہ اس اجلاس میں اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ اجلاس وہ کس طرح ممکن کر پاتا ہے۔

اسی بارے میں