نوازشریف کا دورہ میران شاہ: ’یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیراعظم کو بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان کا 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے خالی کروا لیا گیا ہے

وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے جمعرات کے روز قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ کا دورہ کیا اور وہاں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف پاکستانی فوج کے افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق شدت پسندی سے متاثرہ قبائلی علاقوں کا گذشتہ کئی برسوں میں پاکستانی سول قیادت کا یہ پہلا دورہ ہے جبکہ نواز شریف شمالی وزیرستان میں قدم رکھنے والے پہلے پاکستانی وزیر اعظم ہیں۔

سرکاری میڈیا کے جمعرات کے روز شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ پہنچنے پر بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور قبائلی علاقوں کے لیے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

میران شاہ میں پاکستانی فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل ظفراللہ نے وزیراعظم نواز شریف کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان کا 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے خالی کروا لیا گیا ہے۔ انھیں بتایا گیا کہ اس آپریشن میں اب تک ایک ہزار سے زائد شدت پسند اور ایک سو کے قریب پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

میجر جنرل ظفر اللہ نے وزیراعظم اور ان کے وفد کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں قائم شدت پسندوں کے کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے، اور شدت پسند اس علاقے سے نکالے جانے کے بعد فرار کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔

بریفنگ کے بعد وزیراعظم نواز شریف کو میران شاہ شہر میں شدت پسندوں کے تباہ شدہ ٹھکانوں کو دورہ کروایا جس کے بعد وزیراعظم جوانوں اور افسروں سے خطاب میں کہا کہ ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان ایک پرامن ملک بن جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب میں دشمن سامنے سے نہیں بلکہ چھپ کر وار کرتا ہے۔

اسی بارے میں