ملالہ ہمیں تم پر فخر ہے: پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا بھر کے بچوں اور بچیوں کو ملالہ کی کوششوں اور مضبوط ارادی سے سبق سیکھنا چاہیے: نواز شریف

سوات کے مرکز مینگورہ میں دو سال قبل ملالہ یوسفزئی کو گولی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

لیکن آج یہاں صورتِ حال مختلف ہے کیونکہ وہی ملالہ یوسف زئی دنیا میں اپنی جرات اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر امن کا نوبیل انعام جیت چکی ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار عنبر شمسی کے مطابق اگرچہ اس سلسلے میں سوات میں کوئی سرکاری تقریب منعقد نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی بڑے جشن کا سماں نظر آ رہا ہے، لیکن سوات کے عوام خصوصاً بچوں اور نوجوان طبقے میں اس خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نے بھی ملالہ یوسف زئی کو نوبیل انعام حاصل کرنے پر مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ ملالہ کی کامیابیوں کا کوئی مثل نہیں ہے: ’دنیا بھر کے بچوں اور بچیوں کو ملالہ کی کوششوں اور مضبوط ارادی سے سبق سیکھنا چاہیے۔‘

ادھر پاکستانی فوج کی طرف سے بھی ملالہ یوسف زئی کو نوبیل انعام ملنے پر مبارکباد کا پیغام بھیجا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا:

’مبارکباد، ملالہ نوبیل انعام حاصل کرنے والی دوسری پاکستانی بن گئی ہیں، شدت پسندوں کے علاوہ تمام پاکستانی اپنے بچوں کو سکول بھیجنا چاہتے ہیں۔‘

سوات میں عوام کے چہروں پر خوشی اور فخریہ تاثرات دیکھنے کو ملے۔

ملالہ کے ہم جماعت رہنے والے تحسین محمود نے نامہ نگار عنبر شمسی سے گفتگو میں کہا کہ ملالہ اس انعام کی حقدار تھیں۔

’میں بچپن سے ملالہ کو جانتا ہوں اور ہمیشہ سے ایک دلیر، سنجیدہ اور محنتی لڑکی ہے۔ وہ اس انعام کی صحیح معنوں میں حقدار ہے۔ وہ چھوٹی عمر سے ہم سب کو کہتی تھی کہ میں سوات اور اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں، اور دیکھیں اس نے کر دکھایا۔

’وہ کلاس میں باقی لڑکیوں سے بہت مختلف تھی۔ باقی لڑکیاں شرمیلی تھیں مگر ملالہ بے باک ہے۔ نہ صرف سوات کے لوگ ملالہ پر فخر کرتے بلکہ پورا پاکستان ہی اس پر فخر کرتا ہے۔‘

آٹھویں جماعت کی طالبہ خلے بی بی بھی ان طالبات میں شامل ہیں جنھوں نے ملالہ کو قریب سے دیکھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مجھے بہت فخر محسوس ہو رہا ہے:

’ملالہ پاکستانی خواتین کے لیے ایک مثال ہے کہ اگر ایک لڑکی حقوق اور سچائی کے لیے کام کرتی رہے تو بہت کچھ کر کے دکھا سکتی ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے۔ بلکہ میں تو کہوں گی کہ ملالہ نے وہ کر دکھایا جو بہت کم پاکستانی مرد کر پائے ہیں۔‘

اگر آپ اس وقت سوات میں کسی کو فون کریں تو وہ مسکراہٹ کے ساتھ ملالہ کو امن کا نوبیل انعام ملنے پر آپ کو بطور پاکستانی مبارکباد ضرور دے گا۔

وزیراعظم کے بیان اور سوات کی مقامی آبادی کے ردعمل کے علاوہ پاکستان بھر میں اس خبر پر طالب علم فخر کا اظہار کررہے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار شائمہ خلیل سے گفتگو میں مقامی سکول کی بچیوں نے جہاں خوشی سے نعرہ بازی کی اور فخر کا اظہار کیا، وہیں یہ بھی کہا کہ ’ہم ملالہ جیسی بننا چاہتی ہیں۔‘

ملالہ نوبیل انعام کے لیے اب تک نامزد ہونے والی 95 خواتین میں سے اس انعام کو جیتنے والی 16 خاتون بن گئی ہیں۔

گذشتہ برس بھی ملالہ کا نام نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا تاہم ان کے نام قرعہ اس بار نکلا۔

ادھر ٹوئٹراور فیس بک پر اس خبر پر ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ پاکستانی فوج کی جانب سے چند ہفتے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ ملالہ یوسف زئی پر نو اکتوبر 2012 کو قاتلانہ حملہ طالبان کے حامیوں نے ہی کیا تاہم اب بھی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ملالہ یوسفزئی کو ان کے والد اور غیر ملکی دشمن طاقتوں نے پاکستان اور اسلام کے خلاف استعمال کیا۔

اور یہی وہ خیالات ہیں جن کا تواتر سے اظہار نہ پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جہاں ملالہ کویہ ایوارڈ کو بھارتی شہری کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر ملے جانے کو مثبت قرار دیا گیا ہے، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اسے بھی تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اسی بارے میں