نوبیل امن انعام کی مختصر کہانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ۔۔۔ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ستھیارتی تک 103 شخصیات کو نوبیل امن انعام مل چکا ہے

نوبیل امن نعام ایک سو تیرہ برس سے ان افراد اور اداروں کو انفرادی یا اجتماعی طور سے پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے نوبیل کمیٹی کی نظر میں قیامِ امن و ترقی کے لیےایسا انفرادی یا اجتماعی کام کیا ہو جس کی عالمی اہمیت و اثرات ہوں۔انیس سو ایک میں سوئٹزر لینڈ میں ریڈکراس کی بنیاد رکھنے والے ہنری ڈوناں اور بین الاقوامی پارلیمانی یونین کے فرانسیی بانی فریڈرک پاسے کو سب سے پہلا نوبیل انعام مشترکہ طور پر دیا گیا۔ تب سے ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ستھیارتی تک ایک سو تین شخصیات کو نوبیل امن انعام مل چکا ہے۔

انعام کے حقداروں میں اقوامِ متحدہ کے دو جنرل سیکریٹریز ڈاگ ہمر شولڈ اور کوفی عنان، چار امریکی صدور، تھیوڈر روزویلٹ ، وڈرو ولسن، جمی کارٹر ، باراک اوباما، ایک سابق نائب صدر ایل گور ، ایک سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر ، ایک برطانوی وزیرِ اعظم آسٹن چیمبرلین ، ایک جرمن چانسلر ولی برانٹ، دو اسرائیلی وزرائے اعظم مینہم بیگن اور ایتزاک رابین ، ایک وزیرِ خارجہ شمعون پیریز ، ایک فلسطینی صدر یاسر عرفات ، ایک مصری صدر انور سادات ، فن لینڈ کے ایک صدر ماری ایتی ساری ، جنوبی کوریا کے ایک صدر کم ڈائے جنگ ، جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما اور صدر نیلسن منڈیلا، جنوبی افریقہ کے انسانی حقوق رہنما آرچ بشپ ڈیسمنڈ توتو ، سیاہ فام شہری حقوق کے امریکی چیمپئین مارٹن لوتھر کنگ ، ایک روسی منحرف آندرے سخاروف ، پولش مزدور رہنما لیخ ولیسا ، برما میں جمہوری جدوجہد کی رہنما آنگ سانگ سوچی ، انسانی حقوق کی ایرانی کارکن شیریں عبادی ، یمن کی جمہوری کارکن توکل کرمان اور انسانیت نواز پولش نژاد بھارتی شخصیت مدر ٹریسا بھی شامل ہیں۔

Image caption ۔۔۔نیلسن مینڈیلا کو27 برس کی قید کے بعد جنوبی افریقہ کی نسل پرست انتظامیہ کےسربراہ ڈی کلارک کے ہمراہ نوبیل کا امن انعام دیا گیا تھا

اب تک بائیس نوبیل امن انعامات عالمی اداروں کو غیر معمولی کارکردگی کے اعتراف میں دیئے گئے ہیں ۔پہلا ادارہ جسے انیس سو چار میں نوبیل امن انعام ملا ، بلجئیم کا انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل لا تھا۔ اقوامِ متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے ( یو این ایچ سی آر ، یونیسیف ، آئی ایل او ، اقوامِ متحدہ امن فوج ، جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے ) اب تک سات اور بین الاقوامی ریڈکراس چار مرتبہ نوبیل امن انعام کی حقدار قرار پائی ۔جبکہ بنگلہ دیش کا گرامین بینک ، یورپی یونین ، ایمنٹسی انٹرنیشنل اور فلاحی ادارہ مدساں ساں فرنٹیر بھی انعام یافتہ اداروں میں شامل ہیں۔

پچھلے ایک سو تیرہ برس میں انیس سو پانچ میں آسٹریا کی فلاحی کارکن برتھا وون سیٹنر سے لے کے ملالہ یوسف زئی تک پندرہ خواتین کو امن کا نوبیل انعام ملا۔

ان ایک سو تیرہ برسوں میں انیس برس ایسے بھی گذرے جن میں کسی کو بھی نوبیل امن انعام نہ مل سکا۔ان میں پہلی عالمی جنگ کے چار اور دوسری عالمی جنگ کے پانچ سال بھی شامل ہیں۔ جبکہ انیس سو اڑتالیس میں دیگر شعبوں میں تو نوبیل انعامات ملے لیکن امن کا نوبیل انعام مہاتما گاندھی کے احترام میں کسی کو نہیں دیا گیا۔ مہاتما کو اس لیےنہیں دیا جاسکتا تھا کیونکہ بعد از مرگ نوبیل انعام دینے کی روایت نہیں ۔انیس سو بہتر کے بعد سے نوبیل امن انعام کی تقسیم میں آج تک کوئی وقفہ نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption ۔۔۔یاسر عرفات کو بھی نوبیل کا امن انعام دیا گیا

ہر سال نامزد ناموں پر خوشی بھی منائی جاتی ہے اور بعض لوگ بدمزہ ہو کر یہ سوالات بھی اٹھاتے ہیں کہ فلاں کو کس خوشی میں ملا اور فلاں جو سب سے زیادہ مستحق تھا اسے کیوں نہیں ملا۔ تاہم سب مانتے ہیں کہ نوبیل پرائیز بلاشبہہ کسی کے لیےبھی سب سے بڑا عالمی انعام ہے ۔