یہ نوبیل شوبل کیا بیچتا ہے ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب تو میں بھی قائل ہوتا جا رہا ہوں کہ یہ جو نوبیل پرائز کا ریکٹ ہے دراصل یہود و نصاری کی رشوت ہے جس کے ذریعے وہ اس دنیا کے سادہ لوحوں کو پھانستے ہیں اور پھر مذموم مقاصد کے لیے برتتے ہیں۔ صرف عبدالسلام اور ملالہ ہی کیا ، یہاں تو ایک فوج ہے نوبیل انعام یافتہ مغربی کاسہ لیسوں کی۔اچھے اچھے نوبیل انعامات تو یہود و نصاری آپس میں پہلے ہی بانٹ لیتے ہیں اور بچے کھچوں سے غیر مغربیوں کی اشک شوئی کردیتے ہیں۔تعصب کی انتہا دیکھیے کہ پچھلے ایک سو چودہ برس میں لگ بھگ آٹھ سو اسی نوبیل پرائز امن ، سائنس ، طب ، فزکس ، کیمسٹری ، ادب اور معیشت کے نام پر بانٹے گئے ان میں سے بس گیارہ انعامات مسلمانوں کے حصے میں آئے۔حتی کہ ہنود جو یہود و نصاری کے فطری ساتھی ہیں ان تک کو محض چار نویبلوں پر ٹرخا دیا ۔

اوروں کا کیا ماتم کریں جب مارٹن لوتھر کنگ ، نیلسن منڈیلا ، یاسرعرفات ، ڈیسمنڈ توتو ، آندرے سخاروف ، آنگ سانگ سوچی اور محمد یونس جیسے لوگ بھی نوبیل گیٹ کا شکار ہو جائیں۔خود اقوامِ متحدہ اب تک سات نوبیل انعام سٹک گئی پھر بھی خود کو غیر جانبدار کہتی ہے۔

مگر بھلا ہو علامہ منطق سہارنپوری کا جنہوں نے بروقت ڈھارس بندھائی کہ نوبیل شوبل کیا بیچتا ہے۔ہم نے بھی شاہ فیصل انٹرنیشنل پرائز کی شکل میں پچھلے چھتیس برس سے متعصب نویبل کا منہ توڑ جواب تلاش کر رکھا ہے۔ دولاکھ ڈالر اور گولڈ میڈل پر مشتمل یہ سالانہ شاہ فیصل انعام خدمت ِاسلام، اسلامک اسٹڈیز ، عربی زبان و ادب ، طب اور سائنس کے پانچ شعبوں میں اس دنیا کے بہترین دماغوں کو بلا رنگ و مذہب و تعصب خالصتاً قابلیت اور ٹھوس کام کی بنیاد پر عطا کیاجاتا ہے۔اب تک بیالیس ممالک کی دو سو چونتیس شخصیات کو نوازا جاچکا ہے ( ان میں سے سترہ شخصیات نوبیل انعام یافتہ ہیں)۔سب سے زیادہ شاہ فیصل انعامات امریکی اور ان کے بعد مصری ، برطانوی ، سعودی اور جرمن ماہرین و اکابرین نے جیتے ہیں۔

طب اور سائنس کے شعبوں میں اب تک جن چونسٹھ اصحاب کو فیصل انعام سے نوازا گیا ان میں اگرچہ تین ہی مسلمان ، صرف دو یہودی اور بس ایک ہندو ہے مگر باقی تین شعبوں میں سوائے اکا دکا الحمداللہ سب ہی مسلمان ہیں ۔

Image caption ملالہ یوسف ضعی نے بھارت کے کیلاش ستيارتھي کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کا نوبیل انعام جیتا ہے

خدمتِ اسلام کے شعبے میں تاحال جن اکتالیس اصحابِ گرامی کو فیصل انعام ملا ان میں پاکستان سے سید ابوالاعلی مودودی اور پروفیسر خورشید احمد اور بھارت سے سید ابو الحسن ندوی شامل ہو پائے ہیں۔ دیگر میں افغانستان سے پروفیسر عبدالرسول سیاف کے علاوہ خادمین حرمین و شریفین شاہ خالد ، شاہ فہد ، شاہ عبداللہ ، ملائشیا کے سابق وزیرِ اعظم مہاتیر محمد ، ترک صدر رجب طیب اردوگان ، امیرِ شارجہ شیخ محمد القاسمی ، سوڈان کے سابق صدر فیلڈ مارشل عبدالرحمان الدہاب ، سینیگال کے سابق صدر عبدو دیوف ، بوسنیا کے سابق صدر عزت بیگووچ ، اسلامی کانفرنس کے سابق سیکرٹری جنرل حامد الغابد اور سعودی مفتیِ اعظم شیخ عبداللہ بن باز بھی نمایاں ہیں۔گویا شاہ فیصل انعام میں خدمتِ اسلام کی کیٹگری کو نوبیل امن انعام کے ہم پلہ کہا جاسکتا ہے حالانکہ اس کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔

جہاں تک پاکستان کا معاملہ ہے تو یہاں بھی اعلٰی ترین شہری اعزاز نشانِ امتیاز بلا امتیاز دیا جاتا ہے۔جیسے فیض احمد فیض، حبیب جالب ، مہدی حسن اور سعادت حسن منٹو کو بعد از مرگ گراں قدر خدمات پر نشانِ امتیاز سے نوازا گیا تو ڈاکٹر قدیر خان ، دلیپ کمار اور پروفیسر عطا الرحمان کو قبل از مرگ ہی عطا ہوگیا۔حکیم محمد سعید کو بعد از مرگ ملا تو ڈاکٹر عشرت العباد کو زندگی میں ہی مل گیا۔جہاں عبدالستار ایدھی کو نشانِ امتیاز عطا ہوا وہاں آئینی جادوگر شریف الدین پیرزادہ بھی محروم نہ رہے۔

پس ثابت ہوا کہ اعزازات سے نوازنے کا ہم لوگوں کا نظام متعصب نوبیل بٹوارے سے کہیں معیاری اور غیرجانبدار ہے۔بس ذرا تشہیر کی کچھ کمی ہے۔پر آپ تو جانتے ہی ہیں کہ عالمی میڈیا پر بھی یہود و نصاری کا کمینہ غلبہ ہے۔

اسی بارے میں