وزیرستان اور خیبر میں فوجی کارروائی، 18 شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے دوران شدت پسندوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے

پاکستان کے سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ پاکستانی فوج نے وزیرستان اور خیبر ایجنسیوں میں کارروائی کی ہے جس میں 18 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس دوران متعدد شدت پسند زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن کی خبر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس سے 11 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

اتوار کو علی الصبح کیے جانے والے اس حملے میں شدت پسندوں کے دو ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔

اس کے علاوہ ریڈیو پاکستان کی خبر کے مطابق خیبر ایجنسی کی وادیِ تیراہ میں پاکستانی فوج کی فضائی کارروائی میں کوکی خیل، دادا توئی، وچو ونہ، فتح سر، اور راجگال میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کارروائی میں سات شدت پسند ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستان فوج کا آپریشن ضربِ عضب جاری ہے اور وزیرِ اعظم نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کے ہمراہ جمعرات کو میران شاہ کا دورہ کیا تھا۔

وہاں اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کو پاکستان کی بقا کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس ’جنگ‘ کے بعد پاکستان کے ایک پرامن ملک بن جائے گا۔

رواں ماہ کی تین تاریخ کو بھی خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی کی گئی تھی جس میں فوجی ذرائع کے مطابق 15 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے تھے۔

وادی تیراہ دور افتادہ پہاڑی علاقہ ہے جہاں اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں کے کئی گروہ سرگرم بتائے جاتے ہیں۔

اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں کا سلسلہ کئی مہینوں سے جاری ہے۔

اسی بارے میں