’اقوام متحدہ ملٹری آبزرور گروپ کو مضبوط کرنے کی ضرورت‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لائن آف کنٹرول پر صورتحال زیادہ کشیدہ ہو رہی ہے جس کی جانب بین الاقوامی برادری اور سلامتی کونسل کی توجہ دلانا ضروری ہے: سرتاج عزیز

حکومتِ پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھا ہے اور سرحدی کشیدگی پر عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھا ہے جس میں بھارت کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔

سرتاج عزیز نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’خط میں دو بنیادی باتیں ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر صورتحال زیادہ کشیدہ ہو رہی ہے جس کی جانب بین الاقوامی برادری اور سلامتی کونسل کی توجہ دلانا ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ دوسرا اہم نقطہ دونوں جانب سے کی جانے والی الزام تراشیوں کی حقیقت معلوم کرنا ہے۔

سرتاج عزیز نے بتایا ’اقوام متحدہ کا ملٹری آبزرور گروپ جو کئی سالوں سے یہاں پر موجود ہے۔ اس کا کام ان تمام سرحدی معاملات پر نظر رکھنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے انڈیا اس کو موقع نہیں دے رہا کہ وہ دیکھے کے کس نے کیا کیا۔ ان حالات میں اس کے کردار کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ الزام تراشیوں کا سلسلہ رکے اور کوئی راستہ نکلے۔‘

خط میں وزیر اعظم نواز شریف کی 26 ستمبر کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت مسئلے کے حل پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اور اس بات کا اعادہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے جو اس مسئلے کے حل پر مزاکرات کے لیے بالکل تیار ہے۔

خط میں بھارت کی جانب سےسیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کی بلا جواز منسوخی کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دو طرفہ مذاکرات کی منسوخی بھارت کا یکطرفہ فیصلہ تھا۔

خط میں پاکستان کی جانب سے حالیہ سرحدی کشیدگی پر بان کی مون کے 9 اکتوبر کے بیان کو بھی سراہا گیا۔ اس بیان میں بان کی مون نے فائرنگ کے تبادلے میں ہونے والی ہلاکتوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا اور دونوں ممالک کو باہمی اختلافات دور کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانے پر زور دیا تھا۔

پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنی سرحد پر جاری کشیدگی کے معاملے میں بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کو ان کا کردار اور ذمہ داریاں بھی یاد دلائی گئی ہیں۔

جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئےگزشتہ چند ہفتوں سے بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی اور بھارتی افواج کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر حالیہ دنوں میں فائرنگ اور گولہ باری سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں نو افراد کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ 11 پاکستانی ہیں۔

اسی بارے میں