سوات میں جھڑپ، تین شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوات میں چند دنوں سے سے دہشت گرد کارروائیوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے

حکام کے مطابق ضلع سوات کی تحصیل چارباغ میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں تین شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں، جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کے میجر عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔

خیال رہے کہ رات کواس علاقے میں امن کمیٹی کے ممبر کو نامعلوم افراد نے گھر کے اندر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

تھانہ چارباغ کے محرر جاجا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ چارباغ کے علاقے منگلتان کے گاؤں خدنگ میں پیش آیا اور وہاں سرچ آپریشن کے دوران جھڑپ ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ چارباغ میں ایک ہفتہ قبل ایک زیرِتعمیر پولیس سٹیشن کو بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا جس سے عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی۔

پولیس کے مطابق تھانے کی زیر تعمیر عمارت میں دو دھماکے ہوئے تھے جس سے عمارت کی دوسری منزل مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

سوات میں چند دنوں سے سے دہشت گرد کارروائیوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ اتوار کو نامعلوم افراد نے مٹہ میں امن کمیٹی کے ایک ممبر کو ان کےسرکاری محافظ سمیت قتل کر دیا تھا۔

ہفتے کے دن مینگورہ شہر میں ایک پیٹرول پمپ پر دستی بم سے حملہ کیاگیا جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2014 کے ان دس ماہ میں اب تک سوات کے مختلف علاقوں میں امن کمیٹیوں کے 23 سے زائد ممبران کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ان امن کمیٹیوں کے ممبران تشویش کا شکار ہیں۔

اپر سوات کے قومی جرگے کے ترجمان فیروز شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں اب بھی طالبان کے حمایتی موجود ہیں جو باہر سے آنے والے شدت پسندوں کو سہولیات مہیا کرتے ہیں۔

ان کے مطابق: ’امن کمیٹیوں کے ممبران دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔‘

اسی بارے میں