چیف جسٹس انتخابی اصلاحات کیس سے علیحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے عدالت عظمیٰ کی عمارت کے باہر لکھے گئے حروف غائب ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے اس واقعہ کی تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا حکم دیا ہے

پاکستان کے چیف جسٹس ناصر الملک نے انتخابی اصلاحات سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔

جسٹس ناصر الملک کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بھی رہے ہیں اور ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جب الیکشن کمیشن کی طرف سے جواب جمع کروایا گیا تھا تو وہ اس وقت قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر فائض تھے اس لیے تکنیکی طور پر وہ ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل نہیں ہوسکتے۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے ایڈوکیٹ جنرل لطیف یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمیشن کو دے دیا ہے اور اس ضمن میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت کروائے جائیں گے اور اس بارے میں بھی ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جو کہ دس اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ دس نومبر سے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے ایک نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو گذشتہ برس پندرہ نومبر تک بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا لیکن پنجاب، صوبہ خیبر پختون خوا اور سندھ کی حکومتوں نے اس ضمن میں قانون سازی مکمل نہیں کی تھی جبکہ صوبہ بلوچستان میں اس سال بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا ہے۔

اُدھر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے عدالت عظمیٰ کی عمارت کے باہر لکھے گئے حروف غائب ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے اس واقعہ کی تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کی عمارت کے باہر انگریزی میں سپریم کورٹ آف پاکستان لکھا ہوا ہے جس کے کچھ حصے اتار دیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا ہے جو وہاں پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ سپریم کورٹ کے رجسٹرر کو پیش کریں گے۔

اسی بارے میں