کراچی:جیل سے ’تخریب کاروں کو فرار کروانے کا منصوبہ ناکام‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کرنل طاہر کے مطابق سڑک سے دس فٹ نیچے 45 میٹر سرنگ کھودی گئی تھی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رینجرز نے سینٹرل جیل سے تخریب کاروں کو فرار کرنے کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

رینجرز کے کرنل طاہر نے پیر کو ایک غیر معمولی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جیل کے ملحقہ علاقے میں واقعہ کچی آبادی غوثیہ کالونی میں ایک مشکوک گھر پر چھاپے مارکر کچھ گرفتاریا کی گئیں۔

گرفتار افراد سے دوران تفتیش جیل توڑنے کے منصوبے کا انکشاف ہوا، رینجرز نے گھر کی تلاشی لی تو پانی کی ٹنکی سے ایک سرنگ کا سراغ لگایا گیا، جس کو جیل کے اس حصے تک پہنچانا تھا، جہاں ایک پرانا کنواں ہے جو اب زیر استعمال نہیں ہے۔

کرنل طاہر کے مطابق سڑک سے دس فٹ نیچے 45 میٹر سرنگ کھودی گئی تھی، دس میٹر مزید کھودائی کی جاتی تو یہ جیل کے اندر داخل ہوجاتی۔ یہ سرنگ چار سے پانچ فٹ اونچی اور تین فٹ چوڑی ہے جس سے مٹی ٹرالی کی مدد سے نکالی جاتی تھی جبکہ اندر بجلی کا انتظام بھی موجود تھا۔

رینجرز کے کرنل طاہر نے بتایا کہ اس کنویں سے باہر نکل کر جیل کے اندر حملہ کرنا تھا اور ساتھیوں کو چھڑواکر اسی کنویں کے ذریعے واپس فرار ہونا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس نوعیت کا منصوبہ ہے اس سے یہ ہی اندازہ ہوتا ہے کہ ملزمان کو جیل کے اندر سے بھی معلومات حاصل تھیں۔

انھوں نے ملزمان کی تعداد اور وابستگی ظاہر نہیں کی، اور اس کہ ان گرفتاریوں کے بعد شہر میں کئی مقامات پر کارروایاں کی گئیں جن میں کئی دہشت گرد گرفتار ہوئے اور کئی مارے گئے۔

سندھ کے صوبائی وزیرِ جیل خانہ جات منظور وسان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل جیل کراچی میں زائد سنگین نوعیت کے وارداتوں میں ملوث 100 سے زائد ملزمان قید ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جیل کے اندر کی سکیورٹی کی ذمہ داری محکمۂ جیل کی ہے جبکہ بیرونی سکیورٹی پولیس، رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوم سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس واقعے میں جیل کے اندر سے کسی کے ملوث ہونے کی تحقیقات کرے گی۔

منظور وسان نے کہا کہ جس گھر سے جیل کی طرف سرنگ کھودا گیا وہ ایک پولیس اہلکار کی ملکیت تھی جس کی قیمت تین لاکھ روپے تھی لیکن اسے 14 لاکھ میں فروخت کیا گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال بھی کراچی سنٹرل جیل پر حملے کی اطلاعات پر سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا تھا، جیل کے بیرونی دیوار کے ساتھ ایک اضافی دیوار تعمیر کی گئی تھی جبکہ آس پاس کی آبادی میں بھی پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے تھے۔

اسی بارے میں