طالبان ہم سے بھتہ مانگتے ہیں: ایم کیو ایم

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption طالبان کی جانب سے بھتہ دینے کے لیے دھمکی آمیز خطوط موصول ہو رہے ہیں، ایم کیو ایم

متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ انھیں طالبان کی جانب سے بھتہ دینے کےلیے دھمکی آمیز خطوط موصول ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دھمکیوں کے بارے میں حکومت کو بھی بتایاگیا ہے لیکن حکومت خاموش ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے بتایا کہ موصول ہونے والے دھمکی آمیز خطوط میں طالبان نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں طالبان اور ان کے اہل خانہ کے رابطہ کاروں کی مدد کریں۔

’پانچ لاکھ سے 25 لاکھ روپے تک کا بھتہ بھی ہم سے مانگاگیا ہے اور کہاگیا ہے کہ مندرجہ ذیل نمبر پر دے دیں، القاعدہ، طالبان اور ازبک کی جو دیکھ بھال کر رہے ہیں انھیں ایک ہفتے کے اندر اندر ان کو یہ رقم پہنچا دیں ورنہ آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو واصل جہنم کیا جائےگا، سکیورٹی ایجنسی کی مدد لینےکی سزا سزائے موت ہے، نائن زیرو سمیت آپ کے گھر کھنڈرات میں تبدیل کیے جائیں گے، آپ کے حاندان اور رشتے دار سب ہٹ لسٹ پر ہیں۔‘

فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیوایم نے تمام تفصیلات حکام تک پہنچائیں ہیں۔ تاہم ایک ماہ گذر جانے کے باوجود حکام نے کوئی رابطہ نہیں کیا اور وفاقی یا صوبائی سطح پر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔

ایم کیو ایم کے رہنما نے بتایا کہ حکام کی جانب سے ہمیں الرٹ رہنے کو تو کہا جاتا ہے لیکن خاطر خواہ سکیورٹی کا انتظام نہیں کیا جاتا۔

فاروق ستار کاکہنا تھا کہ 11 سے زائد رہنماؤں کو دھمکی آمیز خطوط ارسال کیےگئے اور ٹیلی فون کالز اور پیغامات پر دھمکیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔

فاروق ستار نے بتایا کہ دھمکیوں کا یہ سلسلہ کراچی تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے ملک اور لندن میں بھی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو دھمکی آمیز خط ملے ہیں۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط میں کہا ہے کہ ’الطاف بھائی کو بولو کے طالبان کے خلاف بولنا بند کردیں ورنہ ہمارے لوگ وہاں موجود ہیں۔‘

ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور کل اگر کوئی واقع ہوتا ہے یا سانحہ ہوتا ہے اور اس میں اگر کوئی نقصان ہوتا ہے اور عوامی اشتعال ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر نہیں ہو گی۔

’ یہ ساری معلومات دینے کے بعد اگر حکومت اگر غفلت کی نیند سو رہی ہے توحکومت کو اپنے لیے فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے لیے خود گڑا کھود رہی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آنے والے دنوں میں ایم کیو ایم عوامی رابطہ مہم کی جانب بڑھے گی۔

یاد رہے کہ کراچی میں بھتہ خوری کا سلسلہ عام ہے اور اس میں مختلف جماعتوں سمیت عام افراد کو بھی بھتہ مافیا کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط یا پرچیاں موصول ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں