’جاوید ہاشمی کا سیاسی مستقبل داؤ پر‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جاوید ہاشمی مستعفی ہو کر دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں

قومی اسمبلی کا حلقہ 149 ملتان دو ہمیشہ سے مخدوموں، قریشیوں اور ڈوگروں جیسے اہم سیاسی خاندانوں کا سیاسی اکھاڑہ ثابت ہوا ہے۔ ووٹروں پر وڈیروں کی گرفت اس علاقے میں اب بھی قائم ہے۔ اس مرتبہ کے ضمنی انتخاب میں بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں۔

ملتان کے صحافی محمد رضوان اعوان نے اس حلقے کا حدود اربع کچھ یوں بیان کیا۔اسی دیہی حلقے میں مئی دو ہزار تیرہ میں تراسی ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار دیئے جانے والے مخدوم جاوید حسین ہاشمی دوبارہ میدان میں ہیں۔ گزشتہ برس انھوں نے اسلام آباد سے بھی کامیابی حاصل کی تھی لیکن یہ نشست انھوں نے ملتان کے حق میں چھوڑ دی تھی۔ اب وہ دوبارہ اپنے حلقے میں ووٹروں کے پاس گئے ہیں اور کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔ آج ملتان میں صحافیوں سے گفتگو میں وہ پرامید دکھائی دیے اپنی جیت کے بارے میں۔ ’میں نے جو دن رات محنت کی ہے اس کا اثر ہو رہا ہے اور لوگ حمایت کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب سیاسی گرما گرمی اتنی ہے کہ حکومت پنجاب نے آج انتخابی کمیشن سے انتخاب کو ملتوی کرنے کی درخواست کی جو مسترد کر دی گئی۔

تحریک انصاف کے لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ چند روز قبل کا بڑا جلسہ ہوسکتا ہے۔ ملتان الیکشن کی دلچسپ بات بڑی جماعتوں کا براہ راست اس معرکے میں سامنے نہ آنا ہے لیکن در پردہ اپنی پسند کے امیدواروں کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جمعیت علما اسلام بھی ایک امیدوار کی حمایت کر رہی ہے۔ تحریک انصاف نے کوئی وجہ بتائے بغیر جاوید ہاشمی کے خلاف لڑنے سے انکار کیا ہے لیکن عامر ڈوگر کی کھل کر حمایت کر رکھی ہے لیکن حکومت کی جاوید ہاشمی کو حمایت سے نالاں ہے۔

تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ وہ مشکل حلقوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ’ہمیں سولہ پولینگ سٹیشنوں کی اطلاع ہے اور ہم اپنی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

اصل مقابلہ جاوید ہاشمی اور عامر ڈوگر کے درمیان ہی ہے۔ اونچے سیاسی درجہ حرارت میں پرامن انتخاب کروانا انتظامیہ کے لیے یقیناً بڑا چیلنج لیکن اس سے زیادہ بڑا امتحان اس حلقے کے سوا تین لاکھ ووٹروں کے لیے ہے کہ وہ سولہ تاریخ کو کسے ان کی رائے کا صحیح حق دار سمجھتے ہیں۔

مبصرین تاہم مانتے ہیں کہ سب سے زیادہ اس کھیل میں داو پر جاوید ہاشمی کا سیاسی مستقبل لگا ہوا ہے۔

اسی بارے میں