پاکستان کیوں خالی ہو رہا ہے؟

کوئٹہ کی ہزارہ برادری تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پاکستان میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد کی کوشش ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں

سنہ 47، 48 کا پاکستان وہ ملک تھا جہاں پہلے سے رہنے والوں نے یہ پوچھے بغیر کہ تو دکنی ہے کہ بمبئیا کہ مدراسی کہ راجستھانی کہ گجراتی کہ لکھنوی کہ بہاری ۔۔۔سب کے لیے کیمپ ، بازو ، دل اور گھر کھول دیے۔

مگر میزبانی کی بھی حد ہوتی ہے۔ چنانچہ 71 کی خانہ جنگی کے متاثر بہاریوں کو مغربی پاکستان والوں نے کسی حد تک قبول تو کیا پر نہایت بے دلی سے۔اس کے بعد افغان پناہ گزینوں کو یوں قبول کیا گیا کہ ان کی آمد ڈالر اور ریال سے نتھی ہو گئی تھی۔

لیکن پچھلے 67 برس کا مجموعی ریکارڈ دیکھا جائے تو بلاشبہ پاکستان پناہ گزین قبول کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔

لیکن آج وہی پاکستان اندرونی و بیرونی نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کے پانچ بڑے متاثر ممالک میں شمار ہونے لگا ہے (باقی چار ممالک افریقی ہیں )۔

نائن الیون کے بعد سے اب تک پاکستان کے اندر کم ازکم 20 لاکھ لوگ جان و مال و عزت بچانے کے لیے ایک سے دوسری جگہ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تعداد وفاق کے زیرِ انتظام فاٹا کی سات قبائلی ایجنسیوں سے تعلق رکھتی ہے جہاں کے لاکھوں لوگ سنہ 80 کے بعد سے عسکریت پسندی و ملت پسندی کے دو پاٹوں بیچ سرمہ ہوگئے۔

بلوچستان میں بگٹی قبائل کے علاقوں سے بھاری نقل مکانی ہوئی۔ بگٹیوں کے علاوہ بلوچستان سے انسانی حقوق کمیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق عمومی بدامنی، سکیورٹی دستوں اور ان کے مددگار مقامی گروہوں کی زیادتیوں، قوم پرستوں کی نفرت انگیزی اور شدت پسند مذہبی تنظیموں کی دہشتی کارروائیوں کے نتیجے میں پچھلے پانچ برس کے دوران تین لاکھ افراد بلوچستان چھوڑ گئے۔

ان میں لگ بھگ دو لاکھ ہزارہ اور دیگر شیعہ، ایک لاکھ پنجابی و غیر پنجابی آبادکار اور ہندو برادری کے تقریباً دس ہزار افراد شامل ہیں۔ ہزارہ و دیگر شیعہ یا تو کراچی جیسے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں یا پھر تھائی لینڈ، ہانگ کانگ اور آسٹریلیا کا رخ کر رہے ہیں۔

Image caption پاکستان میں احمدی اقلیت کو اپنا مستقبل بہت تاریک نظر آتا ہے

مذہبی شدت پسندی، معاشی مواقع کی عدم دستیابی، تعلیمی و سماجی و نظریاتی انتشار کے فروغ کے سبب اقلیتوں میں سے بالخصوص جسے بھی موقع مل رہا ہے ملک سے باہر جانے کا خواہش مند ہے یا پھر آبائی دیہات اور قصبے چھوڑ کر بڑے شہروں کا رخ کر رہا ہے۔

صوبہ سندھ میں ہندو آبادی پاکستان کے کسی بھی علاقے سے زیادہ ہے۔ اس آبادی میں مالدار بنیا کمیونٹی سے لے کر پسماندہ کوہلی، بھیل اور میگھواڑ وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن گذشتہ پانچ سات برس میں اغوا، مذہب کی جبری تبدیلی، املاک پر زور زبردستی قبضے اور صدیوں سے ساتھ رہنے والی مسلمان اکثریت کو شدت پسندی کی جانب راغب کرنے کی منظم کوششوں کے سبب صوفیوں کی سرزمین سندھ دھرتی اب اپنے بہت سے بیٹے بیٹیوں کے لیے تنگ ہوتی چلی جا رہی ہے۔

چنانچہ ہر ماہ اوسطاً 20 سے 25 ہندو خاندان یاترا کے ویزے پر بھارت جارہے ہیں۔ حالانکہ وہاں بھی ان کے لیے معاشی و سماجی حالات سازگار نہیں پھر بھی ان میں سے بہت سے وطن واپسی کے لیے تیار نہیں۔

کوئی بھی حکومت چاہتی تو پاکستان میں رہنے والی سب سے بڑی ہندو اقلیت کا خوف کسی حد تک کم کرنے کے لیے کم ازکم قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں برسوں سے الماریوں کی گرد چاٹنے والے ہندو میرج ایکٹ کے مسودے کو منظور کرواتی تاکہ ہندو شادیاں بھی باضابطہ طور پر رجسٹر ہو سکیں۔

لیکن رجسٹریشن کے قانون کی عدم موجودگی میں اگر کوئی شادی شدہ ہندو لڑکی بھی اغوا کر کے جبراً مذہب کی تبدیلی کے بعد کسی کے نکاح میں دے دی جائے تو متاثرہ خاندان کے پاس ایسا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں جس کی مدد سے عدالت میں قانوناً ثابت ہو سکے کہ مذکورہ لڑکی پہلے سے شادی شدہ ہے۔

یہ وہ خوف ہے جو ہندو برادری کے لیے دیگر تمام مصائب پر بھاری ہے چنانچہ اب انھیں ایک ہی راستہ نظر آتا ہے کہ ملک ہی چھوڑ دیں۔

حتیٰ کہ سکھ جو پاکستانی سماج میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور کبھی بھی اور کسی بھی لحاظ سے نہ تین میں شمار رہے نہ تیرہ میں، وہ بھی جان کے خوف سے خیبر پختونخوا میں اپنے قدیم محلے چھوڑ کر دوسرے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان کے احتجاجی مظاہرے بھی انھیں تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔

جہاں تک کرسچن کمیونٹی کا معاملہ ہے تو جو ذرا سا بھی خوشحال عیسائی ہے اس کی پہلی کوشش یہی ہے کہ یہاں سے چلا جائے۔ کیونکہ کوئی بھی اس کی جائیداد صرف ایک حساس الزام لگا کر ہتھیا سکتا ہے، مار سکتا ہے، اچھوت بنا سکتا ہے۔

باقی رہ گئے پسماندہ عیسائی تو وہ تو اکثریتی نگاہ میں کل بھی سماجی اچھوت تھے اور آج بھی ہیں۔

یہ بات طے ہے کہ پاکستان میں احمدی کمیونٹی کا کوئی مستقبل نہیں۔ دس برس پہلے تک تو انھیں جرمنی اور کینیڈا سمیت کئی مغربی ممالک مذہبی تعصب کی شکایت کی بنیاد پر پناہ دے دیتے تھے لیکن اب وہاں بھی قوانین اور چھان بین کے نظام میں سختی بڑھ گئی ہے۔ چنانچہ اب احمدی کمیونٹی کے لوگ جہاں موقع مل رہا ہے پناہ ڈھونڈھ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب احمدیوں کی مائیگریشن سری لنکا اور چین کی جانب بھی ہو رہی ہے۔

کچھ اقلیتیں بہت خاموشی سے پاکستان چھوڑ رہی ہیں۔ کراچی میں اب اینگلو انڈین کمیونٹی یا گوانیز کرسچن تبرکاً نظر آتے ہیں ۔بیس پچیس برس پہلے تک صدر کے علاقے میں بالخصوص زیادہ تر آبادی انھی کی تھی۔ خوشحال سمجھی جانے والی پارسی کمیونٹی میں اب صرف بوڑھے لوگ ہی پیچھے رہ گئے ہیں، جوان نسل زیادہ تر امریکہ اور کینیڈا شفٹ ہوگئی ہے۔

اسماعیلی اور بوہری کیمونٹی اپنا سرمایہ دیدہ و نادیدہ خوف کے تحت ایک ہی باسکٹ میں رکھنے کے بجائے مختلف ممالک میں پھیلا رہی ہے ۔

اور صرف اقلیتیں ہی کیا اکثریت بھی حالات سے تنگ پر تول رہی ہے۔ پاکستان کی صنعتی و تجارتی، سیاسی، سرکاری، عسکری اور زمیندار اشرافیہ میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے پاس دہری شہریت یا کسی اور ملک میں سر چھپانے کی متبادل جگہ کا انتظام نہ ہو۔

بیرونِ ملک شہریت دلانے والے مشاورتی اداروں کے دفاتر میں مڈل کلاس طبقے کا جھمگٹا اور غیر ملکی یونیورسٹیوں میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کے لیے اخبارات میں بھانت بھانت کے اداروں کی جانب سے رغبتی اشتہارات کی بھر مار سوائے اس کے کیا بتاتی ہے کہ اس نفسیات کو ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا گیا ہے کہ کسی بھی قیمت پر کسی بھی طرح کہیں کا بھی ویزا ملے اور میں یہاں سے نکلوں۔

اور جو لوگ یہ سب افورڈ نہیں کر سکتے وہ مشکوک ریکروٹنگ ایجنٹوں اور سیاست کے زیرِ شفقت انسانی اسمگلروں کو گھر بار زیورات بیچ باچ کر دس دس لاکھ روپے حوالے کر کے دم گھونٹنے والے کنٹینروں، ٹرالروں اور لانچوں میں کسی پر بھی بیٹھ کر بحیرۂ روم پار کرنے، انڈونیشیا سے آسٹریلیا کے درمیان پھیلے خونخوار سمندر میں تختے پر بیٹھ کے تھپیڑے سہنے اور یورپ کی طرف سمگل ہونے کے سفر میں ایران اور ترکی کے سرحدی محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بننے کو اپنے ہی ملک میں مزید رہنے سے بہتر سمجھ رہے ہیں۔

یہ وہ انسانی المیہ ہے جو ہم میں سے سب کے لیے ایک روز مرہ کھلا راز ہے، مگر کوئی اس پر کھل کے بات کرنے، اس رجحان کو رکوانے یا ان حالات کو لگام دینے کی نمائشی کوشش تک پر بھی آمادہ نہیں۔ یہ ملک انہی لوگوں سے خالی ہو رہا ہے جنھیں تحفظ دینے کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔

ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

صرف یہ کہنے سے کہ ایک دن پاکستان ان ممالک میں شامل ہو جائے گا جہاں باہر سے لوگ آ کر بسنے اور کام کرنے کی تمنا کریں گے کوئی بھی نہیں رکے گا۔ جو یہ خواب دیکھ اور دکھا رہے ہیں شاید وہ بھی نہیں رکیں گے۔

اسی بارے میں