اثاثے نہ بتانے پر 210 اراکینِ اسمبلی کی رکنیت معطل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کو 30 ستمبر تک اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کروانے کی ہدایت کی تھی جو کہ بڑھا کر 15 اکتوبر تک کردی گئی تھی

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر 210 ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

معطل کیے جانے والے ارکان میں قومی اسمبلی کے 40، سینیٹ کے دو اور صوبائی اسمبلیوں کے 168 ارکان شامل ہیں۔

اس ضمن میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز سے کہا گیا ہے کہ گوشوارے جمع نہ کروانے والے افراد کو پارلیمانی امور کی انجام دہی کے لیے طلب نہ کریں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جن ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت معطل ہوئی ہے وہ اسمبلیوں کی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

جن اہم ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی شامل ہیں جو گذشتہ کچھ عرصے سے حکومت اور تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے درمیان مصالحت کی کوششوں میں آگے آگے تھے۔

الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کو 30 ستمبر تک اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کروانے کی ہدایت کی تھی جو کہ بڑھا کر 15 اکتوبر تک کردی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق معطل ہونے والے اراکین میں سینیٹ کے دو، قومی اسمبلی کے 40، پنجاب اسمبلی کے 98، خیبر پختونخوا سے 33، سندھ سے 28 اور بلوچستان سے 9 شامل ہیں۔

معطل کیے جانے والے اراکین میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے ارکان کی اکثریت ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکانِ قومی اور صوبائی اسمبلی کی قابلِ ذکر تعداد بھی اس فہرست میں شامل ہے۔

قومی اسمبلی کے جن ارکان کی رکنیت معطل ہوئی ہے اُن میں خارجہ امور سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اویس احمد خان لغاری، اطلاعات و نشریات کے پارلیمانی سیکرٹری محسن شاہ نواز رانجھا بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے علی محمد خان، اظہر خان جدون اور داوڑ خان کی رکنیت بھی معطل کردی گئی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں 98 ارکان میں اکثریت کا تعلق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے ہے جبکہ صوبہ خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلی میں جن 33 ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے ان میں سے اکثریت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔

اس کے علاوہ صوبہ سندھ میں معطل ہونے والے ارکان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

اسی بارے میں