’لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے چار بچے زخمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پہلے بھارت نے مذاکرات منسوخ کیے اور پھر سرحد پر ’بلااشتعال‘ فائرنگ کا آغاز کیا: سرتاج عزیز

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کی جس میں چار بچے زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس نے رات دو بجے راولاکوٹ میں نیزا پیر اور باغ سیکٹر کے علاقے کیلر میں دو بار بلا اشتعال فائرنگ کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فائرنگ میں چار بچے زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تین دس سال کے لڑکے اور ایک 16 سالہ لڑکی شامل ہیں۔ پاکستانی بیان کے مطابق فوج نے موثر جوابی کارروائی کی جس کے باعث بھارتی بندوقیں خاموش ہو گئیں۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق بھارتی فوج نے اس واقعے کی تصدیق تو کی ہے لیکن کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے پہلے فائرنگ کا آغاز کیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ اور شیلنگ کے باعث 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 12 افراد پاکستانی ہیں جبکہ آٹھ بھارتی ہیں۔

یاد رہے کہ منگل کو وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارت کے ساتھ سیکریٹری خارجہ سطح پر مذاکرات کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ پہلے بھارت نے مذاکرات منسوخ کیے اور پھر سرحد پر ’بلا اشتعال‘ فائرنگ کا آغاز کر دیا۔

پاکستان کی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق دفترِ خارجہ نے منگل کو اسلام آباد میں مقیم تمام سفارت کاروں کو کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر بریفنگ دی۔

بریفنگ میں ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے سینیئر نمائندے نے بھارتی فوج کی طرف سے 30 ستمبر سے ’بلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کی شدت اور اصل صورت حال‘ سے آگاہ کیا، جبکہ شہریوں کی اموات اور زخمی افراد اور مالی نقصان کی تفصیلات بھی بتائی گئیں۔

وزیر اعظم کے نمائندۂ خصوصی طارق فاطمی نے اس موقعے پر پاکستان کے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کے عہد کا اعادہ کیا۔

اسی بارے میں