کیا داعش ٹی ٹی پی کی مدد کر سکتی ہے؟

دولتِ اسلامیہ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ میں کئی چیزیں مشترک ہیں لیکن القاعدہ ہمیشہ پس منظر میں رہنے والی تنظیم تھی جبکہ داعش ایسی نہیں ہے

پاکستان میں شدت پسندوں میں تقسیم در تقسیم کا سلسلہ تو کافی عرصے سے چلا آ رہا ہے لیکن یہ شدت پسند اب عراق اور شام میں داعش کی جانب زیادہ دیکھتے نظر آ رہے ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ کا گزشتہ دنوں داعش کی حمایت کا اعلان اس جانب مائل ہونے کا ایک اشارہ ہے۔

اس کی وجہ آخر کیا ہے؟ کیا داعش ان کے لیے کسی صورت مددگار ثابت ہوسکتی ہے؟

پاکستان میں شدت پسندوں کے امور پر نظر رکھنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ اس تحریک میں انتشار اور عدم اتفاق کی وجہ سے اس کی حکمت عملی جانچنا آج ماضی سے کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔ پہلے تقسم در تقسیم اور اب شام اور عراق میں داعش جیسی تنظیم کی جانب پیغامات ارسال کرنے کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ تحریک کے اندر ٹوٹ پھوٹ کی ایک اور شکل ہے؟

فاٹا ریسرچ سینٹر کے سیف اللہ محسود کہتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کی شکل کافی تبدیل ہوچکی ہے۔ ’وہ اتحاد بھی نہیں رہا جو ٹی ٹی پی میں کبھی تھا۔ یہ تنظیم مختلف دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔‘

داعش کے رہنما ابو بکر البغدادی نے اس سال جون میں اپنے آپ کو تمام اسلامی دنیا کا خلیفہ مقرر کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے بیعت کا تقاضا کیا تھا۔ یہ مطالبہ انھیں افغان طالبان کے رہنما ملا محمد عمر کے خلاف لا کھڑا کرتا ہے جنھوں نے اپنے آپ کو امیر المومنین پہلے ہی قرار دے رکھا تھا۔ تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کے حالیہ بیان کو، جس میں انھوں نے چوتھی مرتبہ داعش کے رہنما ابو بکر البغدادی پر بیعت کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، تجزیہ نگار کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

’شاہد اللہ شاہد کا بیان تنظیم کی اسی کمزوری اور عدم اتفاق کی عکاسی کرتا ہے۔‘

تو کیا تقسیم شدہ تحریک طالبان پاکستان اب داعش کو متحد ہونے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کرسکتی ہے؟

سیف اللہ محسود اس سے متفق نہیں۔ ’مجھے ایسا نہیں لگتا۔ اس علاقے میں جتنے طالبان گروپ ہیں وہ ملا عمر کو تسلیم کرتے ہیں اپنے رہنما کے طور پر۔ اگر یہ اپنی قیادت ملا محمد عمر سے تبدیل کر کے بغدادی صاحب کی جانب لے جاتے ہیں تو اس سے تقسیم کو مزید تقویت ملے گی۔ اس سے باہمی اتفاق کو مزید ٹھیس پہنچے گی جس سے افغان حکومت اور پاکستان فوج کو ان کے خلاف زیادہ بہتر کارروائیاں کرنے کا موقع ملے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس موقع پر یہ طالبان کو کوئی فائدہ پہنچائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹی ٹی پی کی طرف سے داعش کی پذیرائی کے بعد سوال یہ ہے کہ امیر المومنین ملا عمر ہوں گے یا البغدادی

عسکری امور کے ماہر تجزیہ نگار اور اس موضوع پر کئی کتابوں کے مصنف زاہد حسین کہتے ہیں کہ داعش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ’وہ بھی القاعدہ کا آف شوٹ ہے اور اس خطے میں بھی القاعدہ کی موجودگی رہی ہے۔ القاعدہ ہمیشہ پس منظر میں رہنے والی تنظیم تھی جبکہ داعش ایسی نہیں ہے۔ داعش کے پاس اب علاقہ ہے۔ ان کا ایک انتظامی ڈھانچہ ہے اس لیے وہ شدت پسندوں کے لیے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس کے پاس ایک خلافت کا واضح پروگرام بھی ہے جو القاعدہ کے پاس نہیں تھا۔‘

زاہد حسین مزید کہتے ہیں کہ داعش کی ویب سائٹ پر بھی لکھا ہے کہ وہ اور طالبان ایک ہیں۔ ’یہ دو نام ہیں لیکن مقاصد ایک ہیں۔ تو یہ ایک قدرتی امر ہے کہ یہاں کے طالبان کے گروپ اس میں شامل ہوں اور ایک رولر کوسٹر ایفیکٹ آئے۔‘

بیت اللہ محسود سے لے کر حکیم اللہ محسود تک اکثر پاکستانی طالبان قبائلی علاقوں، اس کے بعد پورے ملک اور بعد میں دنیا میں اپنا کنٹرول بڑھانے کی خواہش رکھتے تھے۔ لیکن پاکستان میں آج کل بیک فٹ پر ہونے کی وجہ سے کیا وہ اب دوسری جانب یعنی بیرونی مدد سے اپنی خواہش کی تکمیل کرنا چاہ رہے ہیں؟

زاہد حسین اس سے متفق نہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کا کبھی کوئی گلوبل ایجنڈا تھا۔ ’تحریک طالبان پاکستان کے القاعدہ اور افغان طالبان سے تعلقات تھے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن ایک خطرہ یہ ہے کہ پاکستانی طالبان میں اس تقسیم کا اثر افغان طالبان کے ساتھ تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ شدت پسندوں کے شجرۂ قیادت میں ایک ’امیر المومنین‘ یا ’خلیفہ‘ ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی طالبان ملا محمد عمر کی جانب اب مزید قیادت کے لیے نہیں دیکھیں گے۔‘

سیف اللہ محسود کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں داعش اتنی صلاحیت نہیں رکھتی کہ اس خطے کے طالبان کی کسی قسم کی مدد کر سکے۔ ’ان کی یہاں پر کوئی موجودگی نہیں ہے۔ ایک ایسے وقت جب پاکستانی فوج ان کے خلاف برسرِ پیکار ہے تو پاکستانی طالبان کو مدد کے لیے افغان شدت پسندوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر وہ داعش کی جانب جھکتے ہیں تو ان کو یہ مدد پھر دستیاب نہیں ہوگی۔‘

امریکی قیادت میں اتحادی افواج کی داعش کے خلاف کارروائی کو پاکستان کے شدت پسند حلقوں میں بھی بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے اور خیال ہے کہ وہاں جنگ سے نکلنے والے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں