تیراہ: امن کمیٹی کے اجلاس پر خودکش حملہ، پانچ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ حملہ اس وقت ہوا جب مقامی امن کمیٹی کا اجلاس جاری تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے قریب ایک خودکش دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پیر میلہ کے مقام پر مقامی امن کمیٹی کا اجلاس جاری تھا جسے خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا۔

یہ حملہ زخہ خیل قبیلے کے علاقے میں ہوا ہے جہاں امن کمیٹی کچھ عرصہ پہلے قائم کی گئی تھی۔

اہلکار کے مطابق اجلاس میں رضا کاروں کے علاوہ مقامی لوگ بھی شریک تھے اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کی عمر 18 سے 20 برس کے درمیان تھی۔

خیبر ایجنسی سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ زخمیوں کو قریبی بنیادی صحت مرکز میں منتقل کیا گیا ہے۔

وادی تیراہ کا یہ علاقہ ایجنسی ہیڈکوارٹر سے خاصا دور ہے اور اس کی سرحد اورکزئی ایجنسی سے ملتی ہے۔

اس علاقے میں مواصلات کا نظام بھی باقاعدہ طور پر کام نہیں کرتا۔

وادی تیراہ کے علاقے میں ایک عرصے سے کشیدگی جاری ہے۔ اس وسیع علاقے میں چند ایک مقامات پر شدت پسند تنظیمیں متحرک ہیں جن کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جانب سے وقفے وقفے سے فضائی حملے کیے جاتے ہیں۔

ادھر مہمند ایجنسی اور خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں تشدد کے دو علیحدہ واقعات میں امن کمیٹی کا ایک رضا کار اور دو شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں گندارو کے مقام پر امن کمیٹی کی چوکی پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس میں مقامی اہلکاروں کے مطابق امن کمیٹی کے ایک رضا کار خان گل ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ منگل کو رات گئے پیش آیا۔

اس کے علاوہ ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں دوآبہ کے قریب سکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران نامعلوم افراد نے اہلکاروں پر حملہ کیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دو شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جاتا ہے ۔

اسی بارے میں