نیم کے رس سے فصلوں کا کیڑوں سے بچاؤ

Image caption پاکستان میں تمام زیرِ کاشت زمین پر ہربل سپرے کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً ڈھائی کروڑ نیم چاہییں

پاکستان میں جنوبی پنجاب کے ضلع خانیوال کے کاشتکار بابر اللہ لوک نے اِس سال کپاس کی آدھی فصل نیم کے رس سے اُگائی ہے۔

جب بھی فصلی کیڑوں کا شُبہ ہوا گھر کے باہر لگے ہوئے نیم کے درخت سے پتے توڑ کر اور اسے رگڑ کر رس نکالا۔ کڑوے تُمّے اور کچھ تمباکو بھی ساتھ میں رگڑ کر یہ قدرتی محلول کپاس پر چھڑکتے رہے۔

انھوں نے باقی آدھی فصل پر کیمیائی کیڑا مار ادویات بازار سے خرید کر چھڑکیں جو پاکستان بھر کے کسان کرتے ہیں۔

نیم کے رس سے فصلوں کا کیڑوں سے بچاؤ: سنیے

وہ کپاس کی پہلی چُنائی پر ہی خُوش ہیں کہ اِس سال کم از کم آدھی فصل پر تو خوب منافع ہو گا۔

انھوں نے بتایا: ’جس پر گھر میں سپرے تیار کرکے چھڑکی، اُس کا خرچہ تقریباً پورا ہو گیا ہے۔ یعنی کہ اب جو بھی چنائی کریں گے وہ ہمارے فائدے کے لیے ہو گی۔‘

بابر اللہ لوک کا اندازہ ہے کہ وہ ہربل سپرے والی کپاس سے چھ چُنائیاں کر لیں گے۔

ساتھی کاشتکار اُن سے اِس کپاس کا بیج مانگ رہے ہیں کیونکہ فصل کی رنگت، قد کاٹھ اور پیداوار اُن فصلوں سے بہتر ہیں جہاں کیمیائی کیڑا مار ادویات چھڑکی گئیں حالانکہ بابر نے اپنے تجربے کے دوران سپرے کے علاوہ تمام عوامل ایک جیسے رکھے۔

اُنھیں کاشت کاری وراثت میں ملی ہے لیکن فصل دُشمن کیڑوں سے جان چھڑانے کے لیے انتہائی سستی مگر انسان دوست اور اُس کے ماحول کے لیے محفوظ تصور کی جانے والی ہربل پیسٹی سائیڈز بنانے کی تربیت انھیں غیر سرکاری منصوبے ’گرین سکِلز فار رورل ڈویلپمنٹ‘ سے حاصل ہوئی۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے زیرِنگرانی اِس منصوبے کی امدادی رقم یورپی یونین جرمنی اور ہالینڈ نے فراہم کی۔ منصوبے کی نگراں عرشیہ خورشید کے مطابق صوبہ پنجاب کے چار اضلاع سے تقریباً ڈھائی ہزار کاشت کار مختلف فصلوں پر یہ تجربات کر رہے ہیں۔

معاملہ محض زیادہ پیداوار اور آمدن کا نہیں بلکہ زرعی فصلوں پر استعمال ہونے والی کیمیائی ادویات کے انسان اور اُس کے ماحول پر منفی اثرات کا بھی ہے۔

پاکستان کے محکمۂ زراعت میں زرعی کیڑے مار ادویات کے معیار کی نگراں لیبارٹری میں ملتان کے زرعی کیمِسٹ ڈاکٹر احسان الحق اعتراف کرتے ہیں کہ کپاس کے لیے دستیاب زہریلی ادویات پھلوں اور سبزیوں پر چھڑک دی جاتی ہیں جو انسانوں کی صحت پر دور رس مضر اثرات کا سبب بنتی ہیں۔

ٹرائیزوفاس اور ڈیلٹا میتھرین کو بینگن اور دیگر سبزیوں کی فصلوں پر چھڑکا جاتا ہے جو حکومت کی طرف سے تجویز کردہ نہیں۔ یہ دونوں ادویات قانونی طور پر کپاس کے لیے ہیں لیکن ڈاکٹر احسان کہتے ہیں کہ ’(کسانوں کو) کوئی بھی کیڑا کُش دوا مارکیٹ سے مل جائے، وہ اُس کا محلول بنا کر سپرے کر دیتے ہیں۔ حکومت سختی تو کرتی ہے لیکن اِس کی نگرانی نہیں ہو پاتی۔‘

اُن کے بقول نتیجہ انسانوں میں کینسر، یرقان اور معدے کی بیماریوں کی شکل میں نکلتا ہے اور کئی کئی سالوں تک اِن کیمیائی ادویات کا اثر انسانی جسم سے نہیں جاتا۔

ڈاکٹر احسان کی رائے ہے کہ پاکستان میں کم سے کم پھلوں اور سبزیوں کے لیے ہربل پیسٹی سائیڈز ہونی چاہییں جو نیم وغیرہ سے بنتی ہیں اور مضرِ صحت نہیں ہوتی ہیں۔

Image caption کیمیائی کیڑا کش ادویات انسانی صحت کے لیے مضر ثابت ہو رہے ہیں

گذشتہ سال جولائی میں بھارت کی ریاست بہار کے ایک سکول کے 23 بچوں کی اموات کی وجہ مونوکروٹوفاس قرار دی گئی تھی۔ اِس زرعی زہر پر عالمی پابندی کے باوجود یہ وہاں کی دکانوں پر بلاروک ٹوک دستیاب تھی۔ تفتیشی رپورٹ سے پتہ چلا کہ بچوں کا کھانا جس تیل میں پکا تھا، وہ تیل مونو کروٹوفاس سے خالی ہونے والی بوتل میں تھا۔

اِنھی خطرات کے باعث دنیا بھر میں ایسی زرعی پیداوار کی ترویج کی جا رہی ہے جو کیمیائی آلودگی سے پاک ہوں۔ دورِ حاضر میں آرگینِک خوارک کا منافع بخش کاروبار بھی اِسی بنیادی اصول کی مرہونِ منت ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینی‏ئر ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام اکبر کے مطابق ’گذشتہ نو سالوں میں پاکستان کے ایک لاکھ کسان ہربل پیسٹی سائیڈز کے استعمال پر آمادہ ہوئے جو تقریباً ایک لاکھ ہیکٹر اراضی پر کپاس سمیت مختلف فصلیں اُگا رہے ہیں۔ روز بروز اِس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

Image caption ڈاکٹر احسان الحق خصوصاً سبزیوں اور پھلوں کے لیے ہربل پیسٹی سائیڈز کو ہی محفوظ قرار دیتے ہیں

یہ پاکستان میں زیرِ کاشت رقبے کا آدھا فیصد بھی نہیں۔ اس سمت میں تمام تر کاوشیں چھوٹے پیمانے کے فلاحی منصوبوں کے تحت ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں کیمیائی کیڑا مار ادویات کے کاروبار کرنے والی کمپنیاں اِس مہم کا حصہ ہیں نہ سرکاری طور پر اِنھیں عام کرنے کے لیے خاطر خواہ فکر کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر احسان الحق خصوصاً سبزیوں اور پھلوں کے لیے ہربل پیسٹی سائیڈز کو ہی محفوظ قرار دیتے ہیں، لیکن ضابطے کے مطابق اُن کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اِن کی رجسٹریشن نہیں ہے۔ کسان کے لیے پُرکشش اِس لیے نہیں کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ انھیں بڑی مقدار میں ملے۔‘

بابر اللہ لوک دو ایکڑ کے کاشت کار ہیں۔ وہ گھر کے باہر لگے گھنے نیم کے درخت کی شاخیں توڑ کر رگڑنے اور بار بار اِسے فصل پر چھڑکتے رہنے کی اضافی محنت کر سکتے ہیں لیکن بڑے کاشتکاروں کو اِس طرف مائل کرنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں تمام زیرِ کاشت زمین پر ہربل سپرے کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً ڈھائی کروڑ نیم چاہییں۔

اسی بارے میں