’داعش میں جانے والوں کو ملا عمر کی قیادت پر شک تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شاہد اللہ شاہد سمیت چھ طالبان رہنماؤں نے منگل کو ایک پیغام میں دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک رہنما نے تحریک کے ترجمان شاہد اللہ شاہد سمیت پانچ رہنماؤں کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شمولیت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ منحرف ہونے والے افراد کو ملا عمر کی امارت پر شک تھا۔

جو طالبان رہنما دولتِ اسلامیہ میں شامل ہوئے ہیں ان میں ہنگو اور پشاور کے علاوہ اورکزئی، کرّم اور خیبر ایجنسی کے رہنما شامل ہیں۔

طالبان کے رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد نے چار پانچ ماہ قبل ہی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس دوران تحریک کی جانب سے کوشش کی گئی کہ یہ گروہ دولتِ اسلامیہ کی جانب نہ جائے۔

تحریکِ طالبان چھوڑنے والوں میں شاہد اللہ شاہد کے علاوہ سعید خان، فاتح گل زمان، دولت اللہ، مفتی حسن اور خالد منصور شامل ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما کے مطابق سب سے زیادہ نقصان اورکزئی ایجنسی کے امیر سعید خان کے جانے کا ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ دولت اسلامیہ میں شریک ہونے والے دیگر رہنماؤں کا انتخاب بھی سعید خان نے ہی کیا تھا۔

یہ وہ افراد ہیں جنھوں نے ملا عمر کی قیادت پر شکوک وشبہات کا اظہار بھی کیا تھا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سعید خان سخت گیر نظریات رکھتے ہیں۔ دولت اسلامیہ کے سامنے آنے سے قبل بھی نظریات اور مکتبہ فکر کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے مختلف رہنماؤں میں اختلاف موجود تھے۔

کالعدم تحریک طالبان کے رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف تنظیم کے چھ رہنما ہی دولت اسلامیہ میں گئے ہیں جبکہ ان کے حامی اب بھی تحریک طالبان پاکستان کے ہمراہ ہیں۔

ٹی ٹی پی کا دعویٰ ہے کہ ان رہنماؤں کے جانے کے بعد ان عہدوں کے لیے نئے نام چن لیے گئے ہیں اور بہت جلد ان کا اعلان کر دیا جائےگا۔

ٹی ٹی پی کے رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ تنظیم اب بھی ملا عمر کو ہی اپنا امیر تصور کرتی ہے اور ملا فضل اللہ کی قیادت پر اعتماد کرتی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ شاہد اللہ شاہد سمیت دیگر رہنماؤں کی تنظیم سے علیحدگی سے تحریک طالبان کو کوئی فرق نہیں پڑےگا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اب بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ناراض رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے لیکن ان میں مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد خراسانی کا نام شامل نہیں کیونکہ ان کی کارروائیوں کی وجہ سے تنظیم کو تحفظات تھے۔