توہین رسالت کی مسیحی ملزمہ کی سزائے موت برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE
Image caption لاہور ہائی کورٹ میں آسیہ بی بی کی جانب سے 2010 میں ہی اپیل دائر کی گئی تھی جس پر 4 برس بعد فیصلہ ہوا ہے

لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف توہین رسالت کی ملزم مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی اپیل خارج کر دی ہے۔

آسیہ بی بی کو چار برس قبل صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی غیر مسلم خاتون ہیں۔

جسٹس انوار الحق اور جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے جمعرات کو اپیل پر اپنے فیصلے میں مقامی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو برقرار رکھا۔

ملزمہ کے وکیل شاکر چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔

فیصلے کے وقت مقدمے کے مدعی قاری محمد سلیم اور ان کے ساتھی عدالت میں موجود تھے جنہوں نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور نعرے بازی کی۔

پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی نے ہائی کورٹ میں اپنی اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ مقامی عدالت نے توہین رسالت کے جرم میں سزا سناتے وقت حقائق کو نظر انداز کیا اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے انہیں سزا سنا دی تھی جو قانون کی نظر میں قابل پذیرائی نہیں ہے۔

آسیہ کے خلاف جون 2009 میں توہین رسالت کے الزام میں درج مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے۔

ملزمہ نے اپنے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ بیان دیا تھا کہ ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کرنے پر یہ مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آسیہ بی بی کے خلاف الزامات کو ’سنگین ناانصافی‘ قرار دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ایشیا پیسیفک ڈائریکٹر ڈیوڈ گرفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ سنگین ناانصافی ہے۔ آسیہ بی بی پر شروع میں فردِ جرم ہی عائد نہیں کرنی چاہیے تھی، سزائے موت دینا تو دور کی بات ہے۔ اور یہ بات بیمارکن ہے کہ انھیں ایک بحث میں حصہ لینے پر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آسیہ بی بی کے مقدمے کی شفافیت کے بارے میں سنگین خدشات موجود ہیں، اور سالہاسال سے پھانسی کی کوٹھڑی میں قیدِ تنہائی کی زندگی گزارنے سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت میں مبینہ طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ انھیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔‘

آسیہ بی بی کی اپیل خارج ہونے پر انسانی حقوق کی سرگرم کارکن حنا جیلانی نے کہا ہے کہ توہین رسالت کا قانون ایک ایسا قانون ہے جس میں بہت بڑی نا انصافی ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’دیکھا گیا ہے کہ اگر ملزم یا ملزمہ کا تعلق کسی اقلیت سے ہو تو اس سلسلے میں کوئی عوامی رد عمل بھی نہیں ہوتا اور عدالتیں بھی خوف میں کام کرتی ہیں۔‘

حنا جیلانی کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک آسیہ بی بی کے مقدمے کا تعلق ہے تو اس پر اس وقت بھی انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلا کی جانب سے شکوک کا اظہار کیا جا رہا تھا جب یہ مقدمہ ننکانہ صاحب کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اس پس منظر میں ’یہ بہت تشویش کی بات ہے کہ ملزمہ کو سزائے موت دی جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption آسیہ کے خاوند اور دیگر اہلِ خانہ کی جانب سے بھی ہراساں کیے جانے کے الزامات سامنے آئے تھے

خیال رہے کہ چار برس قبل آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائے جانے کے خلاف پاکستان اور پاکستان سے باہر مسیحی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا۔

اس وقت رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے بھی حکومتِ پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ آسیہ بی بی کو رہا کرے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں عیسائی برادری کو اکثر تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب کا قانون ایک حساس معاملہ ہے۔ ماضی میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور اقلیتیوں کے وزیر شہباز بھٹی کو اس قانون میں ترمیم کے لیے آواز اٹھانے پر قتل کیا جاچکا ہے۔

سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کو سزائے موت کی سزا سنائے جانے کے بعد ان سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا تھا اور تجویز دی تھی کہ توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کی جائے۔

آسیہ بی بی سے ملاقات کے کچھ عرصے بعد ہی سلمان تاثیر کو ان کے اپنے محافظ نے اسلام آباد میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا اور اپنے اس اقدام کی وجہ سلمان تاثیر کے توہینِ رسالت کے قانون کے بارے میں بیان کو قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں