ملتان نتائج: پاکستانی سیاست پر اثرات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جاوید ہاشمی المعروف ’باغی‘ اپنے سیاسی کیرئر کا اہم ترین انتخاب آزاد حیثیت میں لڑ رہے تھے لیکن حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کی حمایت حاصل تھی

اس وقت پاکستان کی سیاسی محفلوں میں یہ موضوع زیرِ بحث ہے کہ ملتان کے ضمنی انتخابات میں جاوید ہاشمی کی شکست کے پاکستان کی سیاست پر اثرات کتنے گہرے ہوں گے؟

اگرچہ جاوید ہاشمی اپنے سیاسی کیرئر کا اہم ترین انتخاب آزاد لڑ رہے تھے لیکن حکمران مسلم لیگ نے ملتان کے انتخابات میں جاوید ہاشمی کی ہر ممکن مدد کی جس کا اندازہ ہارنے کے بعد ہاشمی کے ان الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے۔

’میں مسلم لیگ کا بھی شکرگزار ہوں جس کے ہر کارکن اور لیڈر نے مجھ سے زیادہ محنت کی‘۔

جاوید ہاشمی کے خلاف انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے عامر ڈوگر بھی انتخاب آزاد ہی لڑ رہے تھے لیکن ہاشمی کی مخالفت میں تحریک انصاف کھل کر ان کی حمایت میں اتر آئی تھی۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن سے چند دن قبل ملتان میں بہت بڑا حکومت مخالف جلسہ کیا تھا جس میں عامر ڈوگر بھی شریک ہوئے تھے۔

بقول جاوید ہاشمی کے، ’عامر ڈوگر کی حمایت کے لیے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میدان میں موجود تھی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیا ملتان کے عام انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی صورتحال اتنی بدل سکتی ہے کہ حکومت کو ’ان ہاؤس تبدیلی‘ پر مجبور ہونا پڑے؟

سوشل میڈیا پر بھی بظاہر دو آزاد امیدواروں میں ہونے والا یہ مقابلہ حکمران مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے حامیوں کے درمیان ایک کانٹے دار مقابلے میں تبدیل ہو گیا تھا۔

پاکستانی سیاست پر اثرات:

جاوید ہاشمی نے عمران خان کے دھرنے کو ’جمہوریت کے لیے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے نہ صرف تحریک انصاف کی صدارت سے استعفی دے دیا تھا بلکہ قومی اسمبلی کی نشست بھر چھوڑ دی تھی۔

سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے جاوید ہاشمی کی ایک اور بغاوت کو جہموریت کے لیے ان کی ایک ’لازوال قربانی‘ قرار دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود کیوں وہ ووٹروں کو مطمئن نہ کر سکے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئےتجزیہ کار سلیم صافی کہتے ہیں کہ ملتان کے ضمنی انتخابات سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پاکستان بھر میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص تیزی سے مقبولیت کھو رہی ہیں۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ حالیہ نتائج تحریک انصاف کی مقبولیت نہیں بلکہ حکمران جماعت کی عدم مقبولیت ظاہر کرتے ہیں۔

ان کے بقول، ’عامر ڈوگر کا ذاتی ووٹ بینک بھی تھا، پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ بھی ان کی سابقہ وابستگی کے باعث ان کی حمایت کر رہے تھے، اور تحریک انصاف تو ان کی مکمل حمایت کر رہی تھی‘ لیکن اگر آپ دیکھیں تو ڈوگر نےگزشتہ انتخابات میں اسی حلقے سے پی ٹی آئی کے امیدوار سے تقریباً پچیس ہزار کم ووٹ حاصل کئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن سے چند دن قبل ملتان میں بہت بڑا حکومت مخالف جلسہ کیا تھا جس میں عامر ڈوگر بھی شریک ہوئے تھے

لیکن تجزیہ ڈاکٹر حسن عسکری کے خیال میں ملتان کے عام انتخابات کے نتائج ملک میں بدلتے ہوئے سیاسی رجحانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ملتان کے نتائج کے بعد تحریک انصاف کی مقبولیت بڑھے گی، اور عمران خان کی تحریک میں شدت آئے گی، لیکن اگر ان انتخابات میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار ہار جاتے تو اس سے یہ تاثر ملتا کہ پی ٹی آئی کے حکومت مخالف تحریک کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔‘

احتجاجی دھرنے اور حکومت کا مستقبل:

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے اسلام آباد میں تب تک دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا جب تک نوازشریف وزارت عظمٰی سے مستعفی نہیں ہو جاتے۔ لیکن خود حکمران جماعت ایسے کسی بھی آپشن کو سختی سے رد کرتی آئی ہے۔

کیا ملتان کے عام انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی صورتحال اتنی بدل سکتی ہے کہ حکومت کو ’ان ہاؤس تبدیلی‘ پر مجبور ہونا پڑے اور یا عمران خان کی تحریک اتنا زور پکڑ سکتی ہے کہ حکومت کو مڈٹرم اتخابات کا فیصلہ کرنا ہی پڑے؟

سلیم صافی کے نزدیک ان دونوں باتوں کا کوئی امکان نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ وزیراعظم نوازشریف دھرنوں کے بعد، اس وقت خود اپنے عہدے اور اپنی حکومت کو زیادہ مستحکم سمجھتے ہیں، وہ جو خطرہ محسوس کر رہے تھے وہ تحریک انصاف یا عوامی تحریک سے نہیں بلکہ پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ سے محسوس کر رہے تھے، اور اب چونکہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات انتہائی مثبت جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں، اس لیے وہ اس وقت وہ مطمئن ہیں۔‘

سلیم صافی کے بقول ملتان ضمنی انتخابات کے نتائج شاید تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی ساکھ دوبارہ بحال نہ کر سکیں جو کہ دھرنوں اور اس دوران کچھ غلط فیصلوں سے متاثر ہوئی تھی۔

Image caption حکمران جماعت کی حمایت کے باوجود جاوید ہاشمی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے

ان کا کہنا تھا ’کہ اس وقت تحریک انصاف کسی طرح اپنی قومی اسمبلی کے استعفے واپس لینے کی تگ ودود میں ہے۔‘

ڈاکٹر عسکری سلیم صافی سے مختلف نکتہ نظر رکھتے ہیں، ان کے خیال میں ’اگر ملک میں احتجاج اور جلسے جلوس اسی طرح جاری رہے تو حکومت نہ صرف بتدریج کام کرنے کی قوت کھوئے گی، بلکہ تحریک انصاف میں نئے لوگ شامل ہوتے جائیں گے اور حکومت مخالف تحریک زور پکڑے گی۔‘

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت عوام میں غیر مقبول ہوتی جائے گی اور سیاسی عدم استحکام سے عوام میں بے چینی بڑھے گی۔لیکن حکومت سے مایوس عوام کیا تحریک انصاف کا رخ کریں گے؟ اس کا جواب تو آئندہ عام انتخابات کے نتائج سے ہی مل سکے گا۔

اسی بارے میں