وزیراعظم کے خلاف قتل کے مقدمے کے اندراج کا فیصلہ معطل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھرنے کے دوران ہونے والے تشدد سے چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم، وزیرِ اعلیٰ پنجاب، تین وفاقی وزرا اور انتظامیہ کے افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق ایڈیشنل سیشن جج کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پولیس کو اس بارے میں کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔

اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج نے 29 ستمبر کو یہ حکم شاہراہ دستور پر دھرنا دینے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر دیا تھا۔

تحریکِ انصاف کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 31 اگست اور یکم ستمبر کو پی ٹی آئی کے کارکنوں پر مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے ہونے والے چار افراد کے قتل کے ذمہ دار وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر ریلوے کے علاوہ پولیس اور انتظامیہ کے چھ افسران ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز نے جمعرات کو اس مقدمے میں نامزد کیے گئے پولیس افسران کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل وقار رانا کا کہنا تھا کہ شاہراہ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں نے وقوعے کے روز پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو وزیر اعظم ہاؤس کی طرف مارچ کرنے سے روکا۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی پولیس اہلکار کے پاس کوئی آتشیں اسلحہ موجود نہیں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس حکام نے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں اور کسی انتظامی حکم پر جوڈیشل آرڈر پاس نہیں کیا جا سکتا۔

وقار رانا کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج نے پولیس حکام کو سنے بغیر اُن کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کر دیے جو کسی طور پر بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔

اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے کی دو ایف آئی آرز پہلے سے درج ہیں۔ ایک مقدمہ تھانہ سیکرٹریٹ کے انچارج کی مدعیت میں جبکہ دوسرا مقدمہ پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے درج کروایا گیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ تھانہ سیکریٹریٹ پولیس نے ایڈیشنل سیشن جج کے حکام پر وزیر اعظم سمیت دیگر نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا جس پر عدالت نے پولیس حکام کو اس مقدمے پر مزید کارروائی کو روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ درخواست گزار اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کے علاوہ پنجاب، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، پاکستان ریلوے اور اسلام آباد پولیس کے سربراہوں سمیت 11 افراد کے خلاف قتل اور اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں