ایرانی گارڈز کی فائرنگ سے ایف سی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption سیستان صوبے کی سرحد پاکستان کے صوبے بلوچستان سے ملتی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایران کی سیکورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

ایف سی کے ایک پریس ریلیز کے مطابق ایرانی بارڈر فورس کی جانب سے فائرنگ ضلع کچ کے سرحدی علاقے چوکاب میں کی گئی۔

بیان میں مذید کہا گیا ہے کہ علاقے میں ایف سی کی ایک پیٹرولنگ پارٹی معمول کے گشت پر تھی کہ اس دوران دو موٹرسائیکلوں پر سوار مشتبہ شر پسند دکھائی دیے۔

فرنٹیئرکور کے اہلکاروں نے مشتبہ شر پسندوں کا تعاقب کیا۔ جونہی ایف سی کی پیٹرولنگ پارٹی بارڈر پلر 206 کے قریب پہنچی تو ایران کی سکیورٹی فورسز نے ایف سی کی پیٹرولنگ پارٹی پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی۔

ایران کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ چھ سے سات گھنٹے تک جاری رہا۔

فائرنگ کے نتیجے میں فرنٹیئرکور کا صوبیدار عبدالغفور ہلاک جبکہ تین اہلکار سپاہی عمران حسین، سپاہی عدنان علی اور سپاہی محمد غفران زخمی ہوگئے۔

فائرنگ سے ایف سی کی گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ مشتبہ شرپسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پریس ریلیز کے مطابق ایران کی سکیورٹی فورسز کی بلا جواز سرحدی خلاف ورزیاں ضلع چاغی میں بھی جاری ہیں۔

ایران کی سکیورٹی فورسز کے 30 اہلکار جمعے کو چھ گاڑیوں میں پاکستانی حدود میں دو کلومیٹر اندر داخل ہوئے۔

ایرانی سکیورٹی فورسز نے ضلع چاغی میں نوکنڈی کے علاقے لشکرآب گاؤں کومحاصرے میں لے کرمکینوں کو حراساں و زدوکوب کیا۔

بیان کے مطابق ایرانی سکیورٹی فورسزکی جانب سے پاکستان کی حدود میں کارروائی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی تاکہ بے بنیاد اور لغو الزامات لگا کر مذموم مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

آئی جی ایف سی میجرجنرل محمد اعجاز شاہد نے ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ایران کی جانب سے کسی بھی بلاجواز اور غیر قانونی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات ناگزیر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز مشترکہ حکمت عملی کے تحت پاک ایران سرحد کی بہتر طور پرنگرانی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔

دریں اثنا حکومت بلوچستان کے ترجمان جان محمد بلیدی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی فورسز کی جانب سے کی جانے والی اس سنگین خلاف ورزی کے معاملے کو ایران کی حکومت کے ساتھ فوری اور بھر پور طریقہ سے اٹھایا جائے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے فرنٹیئر کور کے ترجمان عبدالواسیع کے حوالے سے کہا ہے جمعہ کو چوکاب کے علاقے میں پاکستانی سرحد کے دو کلو میٹر اندر چھ گاڑیوں میں سوار 30 ایرانی سکیورٹی گارڈز نے فرنٹیئر کور کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس واقع میں دو ایرانی بارڈر گارڈز ہلاک ہوئے۔

یاد رہے کہ ایک دن قبل ایرانی بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی نے پاکستان کو خبردار کیا تھا دہشت گردوں کو روکنے کے لیے ایرانی بارڈر سکیورٹی گارڈز پاکستان کی سرحد کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایران کے مشرقی صوبے سیستان کے علاقے میں چار ایرانی گارڈز کو ایک نامعلوم حلمہ آور نے ہلاک کر دیا تھا۔