’بلاول اب اپنے کارکنان کو فعال اور متحرک کیسے رکھیں گے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلاول بھٹو نے مسلم لیگ ن کی قیادت پر کڑی تنقید کی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے باغ جناح میں پیپلز پارٹی کے جلسے کے بارے میں سیاسی امور کے ماہرین کی اکثریت کا کہنا ہے کہ یہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی کیریئر کا آغاز تھا البتہ اس پر سب کی رائے الگ الگ ہے کہ یہ جلسہ کتنا کامیاب تھا اور بلاول کی تقریر کس قدر پراثر تھی؟

تجزیہ نگار اور اینکر پرسن نسیم زہرہ کا خیال ہے کہ باغِ جناح کے خطاب میں بلاول نے دکھا دیا کہ وہ سنجیدگی سے سیاست میں آگئے ہیں اور نئی بات یہ بھی بھی کہ انھوں نے عمران خان کو ملک میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا۔

’ بلاول نے’بھٹو ازم‘ کا نعرہ تو لگایا تاہم اب ان کے لیے امتحان یہ ہے کہ وہ آنے والے عرصے میں اپنے کارکنان کو فعال اور متحرک کیسے رکھیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی جماعت کی تنظیم نو کیسے کریں گے؟‘

نسیم زہرہ تو سمجھتی ہیں کہ بلاول بھٹو نے اس سکوت کو توڑ دیا جو عام انتخابات کے بعد اور چند ہی دن قبل ملتان کے ضمنی الیکشن میں پی پی پی کی ناکامی کی صورت میں موجود تھا تاہم پاکستانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر کالم نگار نذیر ناجی کے مطابق پی پی پی کے جلسے کی حکمت عملی یا لائحہ عمل درست نہیں تھا اور نہ ہی بلاول تقریر میں کوئی ٹھوس بات کر سکے۔

’جلسے کے شرکا کی تعداد زیادہ تھی اور بلاول کا خطاب بکھرا ہوا تھا جس میں ٹھوس باتیں نہیں تھیں اور روایتی انداز تھا جس میں بھٹو کے پروگرامز کا ذکر نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جلسے کے شرکا کی تعداد زیادہ تھی اور بلاول کا خطاب بکھرا ہوا تھا: نذیر ناجی

کالم نگار ایاز امیر کے مطابق بلاول کی تقریر میں نعرے بازی زیادہ اور مواد کم تھا تاہم وہ بلاول کے پراعتماد انداز سے ضرور متاثر نظر ہیں۔

’ایک تو یہ کہ وہ 26 سالہ نوجوان ہے۔ جب میں 26 سال کا تھا مجھ میں اتنا اعتماد نہیں تھا کہ اس طرح کسی مجمے کا سامنا کروں لیکن اس کے باوجود جنھوں نے تقریر لکھ کر دی وہ مزید بہتر انداز میں لکھ کر دے سکتے تھے۔‘

انگریزی روزنامہ پاکستان ٹو ڈے کے مدیر اعلی' عارف نظامی نے بلاول کی تقریر کو ملک کی موجودہ سیاسی صورحال اور جلسے جلوسوں میں ہونے والے خطابات سے الگ قرار دیا۔

’اچھی تقریر تھی کیونکہ عمران خان صرف دو باتیں کرتے ہیں کہ الیکشن غلط تھے اور وزیراعظم کرپٹ ہیں، سیاق وسباق میں بات کرنے کا رواج نہیں رہا یہاں اب گالی کے جواب میں گالی دی جاتی ہے، بلاول کی تقریر میں یہ انداز نہیں تھا ہٹ کر لگی‘۔

لیکن اب سوال یہ ہے کہ پی پی پی کی جانب سے طاقت کے مظاہرے اور بلاول بھٹو کی طویل اور پرجوش تقریر کا اثر ملکی سیاست پر کیا پڑے گا جہاں گذشتہ دو ماہ سے حکومتی ایوانوں میں جمود اور ان کے باہر ہلچل دکھائی دے رہی ہے؟ کہیں حکومت کے خاتمے کی باز گشت سنائی دیتی ہے تو کہیں وسط مدتی الیکشن کی گونج۔

کالم نگار نذیر ناجی کا خیال ہے کہ وسط مدتی انتخابات اب نہیں رکیں گے: ’معاملات عدالتوں میں چل رہے ہیں اب حکومت کی اتھارٹی لنگڑی بطخ کی طرح ہوگئی ہے اور دھرنے اپنا کام دکھا گئے ہیں۔‘

عارف نظامی کو بھی سیاسی جماعتیں ممکنہ انتخابات کی تیاری میں سرگرم نظر آرہی ہیں۔’سیاسی جماعتوں کو لگتا ہے کہ ممکنہ طور پر انتخابات وقت سے پہلے ہوں گے اور وہ باہر نکل آئی ہیں۔‘

بلاول بھٹو کی تقریر اور پی پی پی کے جلسے کی کوریج سرکاری ٹی وی پر بھی کی گئی اور مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کامیاب جلسے پر پی پی پی کو مبارکباد بھی دی تاہم اپنے والد سے قطع نظر بلاول بھٹو نے مسلم لیگ ن کی قیادت پر کڑی تنقید کی۔

اس پر عارف نظامی کے مطابق ’میرا خیال ہے کہ زرداری نے بلاول کو آگے کر دیا ہے۔ بوقت ضرورت وہ یہ کردار ادا کرتے رہیں گے، بلاول نے اپنے خطاب میں پنچز مارے ہیں، نواز شریف اور شہباز شریف کو لتاڑا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باغِ جناح کے خطاب میں بلاول نے دکھا دیا کہ وہ سنجیدگی سے سیاست میں آگئے ہیں: نسیم زہرا

اگرچہ ایاز امیر سمجھتے ہیں کہ بلاول کی تقریر سے پی پی پی عمران خان کے جلسوں اور جذباتی خطابات کا اثر زائل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تاہم وہ کہتے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات کے لیے حکومت کو کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔

’اگر حکومت پی ٹی آئی کے استعفے قبول کرتی ہے تو ہر ضمنی انتخاب میں ملتان کے ضمنی انتخاب جیسا دنگل ہو گا اور حقیقت یہ ہے کہ حکومت بہت محدود ہو چکی ہے۔‘

اس نکتے پر تجزیہ نگار نسیم زہرہ کا موقف مختلف ہے:’ اگرچہ بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں آصف علی زرداری کی سیاسی مفاہمت کی پالیسی کو نہیں اپنایا تاہم ان کے خطاب میں لیکشن 2018 کے ذکر سے یہ لگتا ہے کہ پی پی پی وسط مدتی انتخابات نہیں چاہے گی۔ بلاول نے 2018 کے انتخابات کی بات کی، اگر پیپلز پارٹی بھی شور مچانے لگی تو پھر کچھ نہیں ہو گا، لیکن یہ پیپلز پارٹی کے لیے موزوں نہیں ہو گا، بلاول کو ابھی مزید وقت چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیاسی جماعتوں کو لگتا ہے کہ ممکنہ طور پر انتخابات وقت سے پہلے ہوں گے اور وہ باہر نکل آئی ہیں: عارف نظامی

پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے طویل خطاب پر سیاسی ماہرین کے تجزیے اور سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ جاری ہے۔ کسی نے اچھا کہا تو کسی نے پرانی تقریر اور نعرے بازی کا نام دیا لیکن ملکی میڈیا پر سنیچر کو آرمی چیف کا کاکول پریڈ سے خطاب، وزیراعطم کی مصروفیات یا دارالحکومت میں دھرنوں کا احوال کوئی بھی خبر پی پی پی کے جلسے سے زیادہ جگہ نہ بنا سکی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دھرنوں اور مفاہمت کی سیاست کے بعد اب جلسے جلوسوں کے موسم کی شروعات سے ملکی سیاست کیا شکل اختیار کرے گی۔

اسی بارے میں