’موجودہ سکرپٹ کے پیچھے ملکی اور غیر ملکی طاقتیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردادری نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی وزیراعظم کے آنے تک سکرپٹ ختم نہیں ہوگا۔

اتوار کو سانحۂ کار ساز کے شہدا کی یاد میں کراچی کے باغ جناح میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زردادری کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے ہمیں پاکستان کا تحفہ دیا تاہم انھیں زندگی نے موقع نہیں دیا کہ وہ ہمیں جمہوریت کا تحفہ دے سکتے، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے بابائے قوم کے خواب کو پورا کر دیا اور پاکستان کو سنہ 1973 کا آئین دیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ضیا کا حقیقی وارث اور روحانی بیٹا دونوں بھٹو کے بنائے ہوئے آئین پر حلف لیتے ہیں۔‘

بلاول بھٹو نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ملک میں سکرپٹ کا شور مچا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ سکرپٹ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف لکھا گیا تھا جو اب تک جاری ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس سکرپٹ کا مقصد گذشتہ انتخابات میں نواز شریف کو جعلی سپر مینڈیٹ دیا جائے کٹھ پتلی خان کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے تاکہ اپوزیشن کی کرسی سے کوئی بہانہ بنا کر بھٹو کے نظام کو توڑ سکیں اور ہمیشہ کے لیے پٹری سے اتار دیا جائے لیکن بھٹو کے جیالوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

’یہ سکرپٹ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک کسی طرح سے کوئی کٹھ پتلی وزیراعظم بن جائے، تاکہ نظام دھرم برہم ہو جائے اور پھر اس کے بعد پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائے۔‘

انھوں نے سکرپٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ’اس میں ملکی اور غیر ملکی طاقتیں شامل ہیں، اور یہ پاکستان کو بھی عراق اور شام بنانا چاہتی ہیں، تاکہ یہاں بھی دنیا بھر کے دہشت گرد خودکش بمبار بنا سکیں، پھر کوئی اسامہ بن لادن ہمارے شہر سے نکلے، اس کے بعد پھر کوئی کٹھ پتلی پشاور میں اچھے طالبان کا دفتر کھولنے کا اعلان کرے گا جو بعد میں داعش کا دفتر بن جائے گا، اور یہاں سے مذہب کے نام پر پورے ملک میں عراق اور شام کی طرح خانہ جنگی شروع کی جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جلسے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی

خطاب شروع کرنے سے پہلے بلاول بھٹو نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اتنی بڑی تعداد میں جلسے میں شرکت کی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں دراصل دو ہی سیاسی قوتیں ہیں، ایک بھٹو ازم اور دوسرے آمریت کے پجاری۔’ہمیں ڈرانے والے سمجھ لیں کہ بھٹو کسی سے نہیں ڈرتا۔ بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ ’ کیا خودکش حملے اور تختہ دار صرف ہمارے لیے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کیا صرف اس لیے انھیں نشانہ بنایا جاتا ہے کہ صرف بھٹو ازم ہی پورے پاکستان کی بات کرتے ہیں، جمہوریت کے زور پر دوسری قوتوں کو اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کرنے دیتے۔

بلاول بھٹو زرداری نے تقریر زبانی کی اور اس میں گاہے بگاہے پارٹی کے نعرے لگائے اور اس کے علاوہ انھوں نے ’میں باغی ہوں، میں بھٹو ہوں‘ کے نعرے بھی لگوائے۔

پاکستان کے حالیہ سیاسی بحران کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری چھ سالہ جمہوریت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

باغ جناح میں پیپلز پارٹی کا جلسے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے تھے۔ سیاسی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ عرصے میں ہونے والے مخلتف سیاسی جماعتوں کے جلسوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کے اس جلسے کا شمار بڑے عوامی اجتماعات میں کیا جا سکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں پاکستانی میڈیا پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنا دینے والوں کو پورا میڈیا سر پر اٹھاتا ہے لیکن بلوچوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔

اپنے خطاب میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے ایک مرتبہ پھر کشمیر بنےگا پاکستان کا نعرہ بھی دہرایا۔انھوں نے کہا کہ جب وہ کشمیر کی بات کرتے ہیں تو اسے غلط نہ لیا جائے۔ ’ڈکٹیٹر بولے تو وہ کہتے ہیں آئی ایس آئی بول رہی ہے جب ملا بولے تو وہ کہتے ہیں کہ دہشت گرد بولتا ہے لیکن جب بھٹو بولتا ہے تو وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

بلاول بھٹونے کہا کہ کچھ لوگ پاک فوج کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں۔

انھوں نے عمران خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’بزدلوں دھرنے کے ہیلمٹ سے منہ باہر نکالو۔ اگر طالبان سے ڈر لگتا ہے تو آئی ڈی پیز کی خبر لے لو۔آپ کہتے تھے کہ 90 دن میں کرپشن اور دہشت گردی ختم کریں گے۔ نیا پاکستان تو کیا آپ تو نیا خیبر پختونخوا بھی نہیں بنا سکے۔‘

بلاول بھٹو نے اپنے طویل خطاب میں وزیراعظم نواز شریف اور پنجاب حکومت کو بھی تنقدی کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا ’ججز آپ کے اپنے ہیں، افسر آپ کے اپنے ہیں الیکشن میں جب چاہیں دھاندلی کر لیتے ہیں۔آپ سے لاہور تو چلایا نہیں جا رہا آپ پورا پنجاب کیا چلائیں گے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلاول بھٹو نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اتنی بڑی تعداد میں جلسے میں شرکت کی

انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ کیا ہے آپ کی حکومت میں ضیا کی روح گھس گئی ہے۔ میں آپ سے کہتا ہوں بھٹو ازم کو اپنا لو ضیا ازم کو چھوڑ دو۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں ایم کیو ایم پر دبے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا:’ایم کیو ایم 20 سال سے کراچی پر حکمرانی کر رہی ہے اور ان 20 سالوں میں کراچی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے اور اب تحریک انصاف لاہور کی ایم کیو ایم بننا چاہتی ہے۔‘

بلاول بھٹو کے خطاب سے قبل پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ہسپتال بنا کر اور اس کا اشتہار بنا کر بچوں کو تو بے وقوف بنا سکتے ہیں، ہمیں نہیں۔‘

’ذولفقار علی بھٹو نے بھی عوامی فلاح کے کام کیے تاہم انھوں نے ان کاموں کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا۔ بھٹو نے سندھ مدرسے کے لیے کبھی چندہ نہیں لیا۔‘

آصف علی زرداری نے کہا کہ اگر اللہ نے پیپلز پارٹی کو موقع دیا تو وہ حکومت میں آ کر کسانوں کی مدد کریں گے۔ ’ہر کسان کے پاس ٹیوب ویل ہوگا، وہ شمسی توانائی سے چلےگا، لوگوں سے پیسے نہیں لیے جائیں گے۔‘

آصف علی زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت نے سب کے ساتھ کام کرنا ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے اور ایم کیو ایم بھی شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی تحریک چلے گی۔ ’ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں حکومت کے ساتھ نہیں۔‘

آصف زرداری نے اپنے خطاب میں عمران خان کو تنصید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’ایک ڈکٹیر کی حمایت کر کے آپ کہتے ہیں کہ غلطی ہوگئی۔ کس کس چیز کی معافی مانگیں گے۔ اتنے بڑے بڑے جلسوں کے لیے پیسہ کہاں سے آتا ہے، ہمیں سب پتہ ہے۔‘

جلسہ عام میں پیپلز پارٹی کے مرکزی قائدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی حکومت کی ساتھی نہیں ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کے لیے کوشاں رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت میاں صاحب سے مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے جنگ کرے گی۔

صوبہ سندھ کے وزیر اعلی اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید قائم علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی نوجوانوں کی جماعت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے کبھی آمروں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

ان سے قبل اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ انقلاب دھرنوں سے نہیں آتا اس کے لیے قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ 'انقلاب کے لیے اپنی جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں، انقلاب کے لیے تختہ دار پر چڑھنا پڑتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ بھٹو نے انقلابی پرچم جمہوریت کے لیے اٹھایا تھا جو انھوں نے اپنی بیٹی کو دیا اور آج یہی انقلابی پرچم بلاول بھٹو نے اٹھا لیا ہے۔

پاکستان کے اکثر ٹیلی ویژن چینلز پر پیپلز پارٹی کا جلسہ براہ راست دکھایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے اکثر ٹیلی ویژن چینلز پر پیپلز پارٹی کا جلسہ براہ راست دکھایا گیا

جلسہ گاہ کے اردگرد تمام علاقے کو کنٹینرز لگا کر سیل کیا گیا تھا اور بم ڈسپوزل سکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں کسی بھی نہ خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے موجود تھیں۔

آج سے سات سال قبل اسی دن پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے جلوس پر کراچی میں کارساز کے مقام پر حملہ کیاگیا تھا جس کے نتیجے میں 150 سے زائد کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

18 اکتوبر سنہ 2007 کو بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پاکستان لوٹی تھیں اور کارساز کے مقام پر ان کے استقبالیہ جلوس کو شدت پسندوں نے نشانہ بنایا تھا۔

اسی بارے میں