لوگوں کی بڑی تعداد بلاول بھٹو کے خطاب کی منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کم عمری میں ایک طویل اور انتہائی مشکل سیاسی سفر کا آغاز کر دیا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سانحۂ کار ساز کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کراچی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے لیے باغ جناح پہنچ گئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آج کے جلسے سے پارٹی کو ایک نئی طاقت ملے گی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کم عمری میں ایک طویل اور انتہائی مشکل سیاسی سفر کا آغاز کر دیا ہے جس میں دیگر معاملات کے علاوہ وی آئی پی کلچر اور خاندانی سیاست سے بڑھتی نفرت ان کے لیے اضافی چیلنج ہوگا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق باغ جناح میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد نظر آ رہی ہے اور جلسہ گاہ کے قرب و جوار میں سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سیاسی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جلسے میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔

پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی باغ جناح میں موجود ہیں۔

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی حکومت کی ساتھی نہیں ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کے لیے کوشاں رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت میاں صاحب سے مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے جنگ کرے گی۔

جلسے سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو نے لکھا: ’ خیبر سے کراچی عوام کی آواز کہہ رہی ہے، خوش آمدید بےنظیر، ہلچل بلاول ہلچل، الوداع الوداع سیاسی یتیم الوداع۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آج کے جلسے سے پارٹی کو ایک نئی طاقت ملے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق جلسہ گاہ میں داخلے کے لیے پانچ پوائنٹس بنائے گئے ہیں جس میں سے تین مردوں کے لیے، ایک خواتین کے لیے اور ایک وی آئی پی لوگوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق جلسے گاہ کے ارد گرد پورے علاقے کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی کے فُول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ بم ڈسپوزل سکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں کسی بھی نہ خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے موجود ہیں۔

پاکستان کے اکثر ٹیلی ویژن چینلز پر پیپلز پارٹی کا جلسہ براہ راست دکھایا جا رہا ہے۔

اس وقت باغ جناح کے سٹیج پر پیپلز پارٹی کے متعدد سینیئر رہنما موجود ہیں جن میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری کی دونوں بیٹیاں جلسہ گاہ کی جانب جانے والے قافلوں کی تصاویر اور اپنے خیالات کا اظہار سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مسلسل کر رہی ہیں۔

آصفہ زرداری نے اپنے پیغام میں لکھا ’میں بہترین کی امید اور بدترین کے لیے تیار ہوں، بے نظیر بھٹو شہید۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپ جیالےکا مقابلہ دوسری جماعتوں کے کارکنوں کے ساتھ نہیں کر سکتے۔

اس سے قبل جلسے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ جلسے میں آنے والی تمام گاڑیاں جلسہ گاہ سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر پارک کی جائیں گی اور تمام شرکا کو جلسہ گاہ میں پیدل چل کر آنا ہوگا جبکہ میڈیا کی تمام گاڑیاں نشتر پارک کی جانب پارک کی جائیں گی۔

تمام شرکا کو واک تھرو گیٹس سےگزرنا پڑے گا جبکہ جلسہ گاہ کی بیرونی سکیورٹی کے اختیارات پولیس اور رینجرز کو دیئے گئے ہیں جو کلوز سرکٹ کیمروں کی مدد سے نقل وحرکت کی نگرانی کریں گے۔

پورے علاقے کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں کسی بھی نہ خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے موجود ہیں۔

آج سے سات سال قبل اسی دن پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے جلوس پر کراچی میں کارساز کے مقام پر حملہ کیاگیا تھا جس کے نتیجے میں 150 سے زائد کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

18 اکتوبر سنہ 2007 کو بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پاکستان لوٹی تھیں اور کارساز کے مقام پر ان کے استقبالیہ جلوس کو شدت پسندوں نے نشانہ بنایا تھا۔

اسی بارے میں