خیبر ایجنسی:’ہتھیار ڈالیں ورنہ کارروائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن خیبر ون کا مرکزی ہدف غیر قانونی تنظیم لشکر اسلام اور دیگر شدت پسند گروہ ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے شدت پسندوں کو مہلت دی گئی ہے کہ وہ تین دنوں کے اندر اندر ہتھیار ڈال کر خود حکومت کو حوالے کردے بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح باڑہ سب ڈویژن اور جمرود تحصیلوں میں ہیلی کاپٹر سے پمفلٹ گرائے گئے ہیں جس میں قبائلی عوام کو کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کے مقابلے میں حکومت کا ساتھ دیں۔

پشتو زبان میں جاری کیےگئے اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر ایجنسی کے غیور آفریدی قبائل دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں اور ان کو اپنے علاقوں سے فوری طورپر بے دخل کردے۔

پمفلٹ میں دھمکی دی گئی ہے کہ جو قبائل عسکریت پسندوں اور شر پسندوں کو پناہ دیں گےانھیں بھی ملک دشمن تصور کیا جائے گا اور ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائیگی۔

پمفلٹ میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے شدت پسندوں کو تین دن کی مہلت بھی دی گئی ہے کہ اس دوران وہ پولیٹکل انتظامیہ یا قبائلی مشران کے ذریعے سے ہتھیار ڈال کر خود کو حکومت کے حوالے کر دیں اور ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بیشتر متاثرین اورکزئی ایجنسی یا باڑہ کے راستے سے محفوظ کی طرف نقل مکانی کررہے ہیں

تاہم مہلت گزرنے جانے کے بعد سخت کارروائی کی جائیگی۔

یہ پمفلٹ ایسے وقت تقسیم کیے گئے ہیں جب چند دن قبل پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کے دفتر میں باڑہ کے مشران کا ایک جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں قبائلی عمائدین نے حکومت سے علاقے میں آپریشن فوری طورپر بند کرکے مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات طے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم پولیٹکل ایجنٹ نے جرگہ کو دو ٹوک لفاظ میں بتایا تھا کہ مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے اور آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پورا علاقہ عسکری تنظیموں سے صاف نہیں کیا جاتا۔

ادھر خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری آپریشن خیبر ون کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بدستور چوتھے روز بھی جاری ہے۔

فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے ترجمان حسیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اب تک باڑہ سب ڈویژن کے علاقوں سے 1648 خاندانوں نے بے گھر ہوکر پشاور اور دیگر محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد 13000ہزار کے لک بھگ بتائی جاتی ہے۔ تاہم مقامی ذرائع نے بےگھر افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بیشتر متاثرین اورکزئی ایجنسی یا باڑہ کے راستے سے محفوظ کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ چار دن قبل فوج اور فرنٹیئر کور نے پشار شہر سے متصل قبائلی علاقے باڑہ سب ڈویژن میں اچانک کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن خیبر ون کے نام سے کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کا مرکزی ہدف غیر قانونی تنظیم لشکر اسلام اور دیگر شدت پسند گروہ ہیں۔ اس آپریشن میں اب تک دو درجن کے قریب عسکریت پسندوں کے مارے جانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔