بلاول کی تنقید سے ایم کیو ایم ناراض ہو کر حکومت سے علیحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت گورنر سندھ کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے تاہم ان کے مستقبل کے بارے میں نہیں بتایا گیا

ایم کیوایم نے گذشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین پر کی جانے والی کڑی نکتہ چینی کے سبب سندھ حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کے سندھ حکومت سے علیحدگی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔

نصف شب کے وقت ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ انھیں ایم کیو ایم کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر تعجب ہوا ہے۔

اس سے پہلے اتوار کو ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا لندن اور کراچی میں بیک وقت اجلاس ہوا جس میں حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس کے بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت اپنے قائد کے خلاف کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔

انھوں نے الزام لگایا کہ بلاول بھٹو زرداری نے سیاست کو اپنا کاروبار بنالیا ہے جب کہ ایم کیو ایم خاندانی سیاست کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ کرسی کی خاطر اپنا نسب تک بدل لیتے ہیں۔ بھٹو کا وارث بھٹو ہوسکتا ہے زرداری نہیں، اس لیے بلاول کس حق سے پیپلزپارٹی کے چیئرمین ہیں۔

گذشتہ روز سنیچر کو بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں جلسے سے خطاب میں ایم کیو ایم پر دبے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا: ’ایم کیو ایم 20 سال سے کراچی پر حکمرانی کر رہی ہے اور ان 20 سالوں میں کراچی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے اور اب تحریک انصاف لاہور کی ایم کیو ایم بننا چاہتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ روز سنیچر کو بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں جلسے سے خطاب میں ایم کیو ایم پر دبے الفاظ میں تنقید کی

خالد مقبول صدیقی نے بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر جس میں انھوں نے ’انکل الطاف کا جینا حرام کرنے کی بات کی تھی‘ پر کہا کہ کیا انھوں نے اپنی والدہ محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کا جینا حرام کیا تھا اور کیا اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے قاتلوں کا جینا حرام کیا تھا؟

خالد مقبول صدیقی نے جذبات سے بھرپور تقریر میں کہا انھوں نے قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ کے لفظ مہاجر سے متعلق بیان پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم میں ہر زبان بولنے والے افراد ہیں اور اس وقت پیپلز پارٹی کا ساتھ دینا اصل میں پاکستان کو کمزور کرنے کے برابر ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ لفظ مہاجر کو گالی قرار دینے کا انجام علیحدہ صوبے کی صورت میں ہوگا، اب ہم صوبہ بھی لیں گے اور اپنے حقوق بھی لیں گے۔

ایم کیوایم کی پریس کانفرنس کےدوران ایم کیوایم کے کارکن ’گو زرداری گو‘ اور ’گو بلاول گو‘ کےنعرے لگاتے رہے۔

اس سے پہلے چھ اکتوبر کو عید کے روز بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ’انکل الطاف اپنے نامعلوم افراد کو سنبھالیں، اگر ہمارے کسی کارکن پر آنچ بھی آئی تو لندن پولیس کیا، میں آپ کا جینا حرام کر دوں گا۔‘

اس پر بیان پر متحدہ قومی موومنٹ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے متعصبانہ اور نفرت انگیز قرار دیا تھا اور کہا ہے کہ یہ بیان زبان پھسلنے کا نتیجہ نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی پالیسی ہے۔

پیپلز پارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں بھی متحدہ قومی موومنٹ کئی بار حکومت سے علیحدگی اختیار کر چکی ہے تاہم مصالحت کی پالیسی کے تحت دوبارہ حکومت میں شامل ہو گئی۔

سندھ حکومت کا ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’جو سیاسی جماعت عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہے وہ مل بیٹھ کر کام کرے‘

سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کے سندھ حکومت سے علیحدگی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔

نصف شب کے وقت ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ انھیں ایم کیو ایم کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر تعجب ہوا ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ پیپلز پارٹی کے امن کے پیغام کو شاید ٹھیک طرح سے سمجھا نہیں گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی جماعت تنقید کا جواب تنقید سے دے سکتے ہیں مگر وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ مفاہمت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں اور اگر کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا ہے تو سنجیدہ قیادت کو آگے آنا ہوگا:

’جو سیاسی جماعت عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہے وہ مل بیٹھ کر کام کرے۔‘

پریس کانفرنس کے آخر میں شرجیل میمن نے کہا کہ ’اس شہر کو نامعلوم افراد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ کسی کو اتحادی بنانا حکومت کی مجبوری نہیں ہے۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ وہ سندھ دھرتی کو اپنی ماں سمجھتے ہیں اور اس کی تقسیم کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پاکستانی ہیں اور پاکستان میں موجود ہیں اور پاکستان میں بیٹھ کر سیاست کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان اتحادیوں سے بھی مفاہمت کرتے ہیں جو اسمبلی میں نہیں ہیں۔

اسی بارے میں