’بھارت کو کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ سے روکا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے تاہم اس نے بھارت کی اشتعال انگیزی کا صبر و تحمل اور ذمہ داری سے جواب دیا ہے: سرتاج عزیز

پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور بھارت کو کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر بلااشتعال فائرنگ سے روکے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق امور خارجہ اور قومی سلامتی کے بارے میں وزیرِاعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا۔

سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان معاملات معمول پر لانے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔

مشیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے تاہم اس نے بھارت کی اشتعال انگیزی کا صبر و تحمل اور ذمہ داری سے جواب دیا ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے کشمیر کے بنیادی مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور جموں و کشمیر کے لوگوں کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دو طرفہ مذاکرات اور بین الاقوامی مداخلت کو مسترد کرنا خطے میں کشیدگی کی بڑی وجہ ہے۔

سرتاج عزیز کے مطابق ایک فریق کے عدم تعاون کی وجہ سے اقوام متحدہ کو اپنا کام نہیں روکنا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سرتاج عزیز سے کہا کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔

پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے گروپ کے کام کو سراہتے ہوئے انھوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذید موثر مانیٹرنگ کے ذریعے اس کا کردار مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔

سیکریٹری جنرل نے کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھنے پر ایک بار پھر اپنی تشویش ظاہر کی اور انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ سرتاج عزیز نے گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھا تھا جس میں بھارت کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال کی جانب توجہ دلائی گئی تھی۔

سرتاج عزیز نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ خط میں دو بنیادی باتیں ہیں۔

1. لائن آف کنٹرول پر صورتِ حال کشیدہ ہو رہی ہے جس کی جانب بین الاقوامی برادری اور سلامتی کونسل کی توجہ دلانا ضروری ہے۔

2. دوسرا اہم نقطہ دونوں جانب سے کی جانے والی الزام تراشیوں کی حقیقت معلوم کرنا ہے۔

اسی بارے میں