سزائے موت کےخلاف درخواست ابتدائی سماعت کے لیےمنظور

سزائے موت تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption دو ہزار دو کے بعد سے اب تک پاکستان میں صرف ایک قیدی کو موت کی سزا سنائی گئی ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سزائے موت کے قانون کو ختم کیے جانے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

درخواست گزار بیرسٹر ظفر اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے یہ درخواست 2011 میں عدالت عظمیٰ میں دائر کی تھی تاہم غلط فہمی اور اعتراضات کی بنا پر اسے سماعت کے لیے منظور نہیں کیا گیا تھا۔

’ان کو غلط فہمی تھی کہ اس سے قبل کوئی پٹیشن دائر ہو چکی ہے۔ 2008 میں اخبارات میں لکھا گیا کہ حکومت نے 7000 آدمیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیلی کر دی ہے، اس پر از خود نوٹس لیا گیا تھا۔ عدالت کا موقف تھا کہ ایک پٹیشن کی موجودگی میں دوسری نہیں سنی جا سکتی۔‘

انھوں نے بتایا کہ پیر کو سپریم کورٹ نے اپنے اعتراضات کو خارج کیا جبکہ سزائے موت سے ہی متعلق ان کی ایک اور درخواست پر سپریم کورٹ کا لارجر بینچ بن چکا ہے۔

بیرسٹر ظفراللہ کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 9 ہزار ایسے قیدی بھی موجود ہیں جو 12 سے 30 سال کی قید بھگت چکے ہیں جو کہ عمر قید سے زیادہ ہے۔

ان کا موقف ہے کہ کسی کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی پاکستان کے آئین میں لکھا ہے اور نہ ہی مذہب اسلام سمیت دیگر مذاہب میں سزائے موت کی بات کی گئی ہے۔

وطن پارٹی کے چیئر مین ظفر اللہ کہتے ہیں کہ سزائے موت کے قانون میں پیسے والے شخص کو تو چھوٹ مل جاتی ہے لیکن غریب کو سزا ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ناکافی شواہد اور سزا کے طریقہ کار میں غلطی کی وجہ سے بے گناہ شخص کی جان چلی جاتی ہے۔

وہ کہتے کہ قید کی سزا سزائے موت سے زیادہ سخت ہے اس میں مجرم کو سزا دینے کے ساتھ ساتھ اس کی اصلاح بھی کی جا سکتی ہے۔

’معاشرہ اجتماعی دانشمندی کا مظاہرہ کرے اور بنیاد پرستی سے نکل کر سوچے۔ بنیاد پرستوں سے پوچھیں کہ کیا اسلام میں یہ سزا تھی؟

دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ایچ آر سی پی کی پاکستان میں سربراہ زہرہ یوسف نے سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت کے قانون کے خلاف دائر درخواست کو قابلِ سماعت قرار دینے کے فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پچھلے برسوں میں عدالت کا رویہ اس معاملہ پر بہت قدامت پسندانہ تھا، درخواست کو منظور کیا جانا ایک طرح سے شروعات ہے اور امید ہے کہ فیصلہ سزائے موت کے خلاف ہوگا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ 8 ہزار سے زائد لوگ موت کی سزا سننے کے بعد اس کے منتظر ہیں۔ پاکستان میں سزائے موت کے قانون کو اگر ختم کیا جائے تو عوام کا رد عمل کیا ہوگا؟

اس سوال کے جواب میں زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ اگر اپ عوامی رائے لیں تو زیادہ تر کا جواب اس سزا کو برقرار رکھنے کے لیے ہوگا۔

’اکثریت چاہتی ہے کہ ہر مجرم کو سخت سے سخت سزا دی جائے، مگر اس قانون کے خلاف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ 130 سے زائد ممالک میں جہاں موت کی سزا ختم ہوئی وہاں جرم کی شرح بڑھی نہیں۔‘

زہرہ یوسف کا خیال ہے کہ موت کی سزا ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ جو جرم کرے اسے چھوڑ دیا جائے، اس کے لیے دوسرے آپشنز کو استعال کیا جا سکتا ہے ۔

’عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے، یہاں پر تحقیقات کا طریقہ کار بہت کمزور ہے زبردستی اور تشدد کر کے اعتراف جرم کروایا جاتا ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان میں قانون کے مطابق صرف ملک کے صدر ہی موت کی سزا کے کسی قیدی کو معاف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں