پاکستان کے ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے دور

پاکستان میں تعلیم کی صورتِ حال پر تحقیق اور کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کے ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری سکولوں کے خراب معیار کی وجہ سے پہلی جماعت کے نصف سے زیادہ بچے یا تو سکول جانا چھوڑ دیتے ہیں یا پرائیوٹ سکول منتقل ہو جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

گجرانوالا شہر سے سات کلومٹر دور سنگو والی گاؤں کا آروپ گرلز ماڈل پرائمری سکول۔ قریب ہی لڑکوں کا سکول ہے اور دونوں سکولوں کو ملا کر 120 بچے پڑھتے ہیں۔ تاہم، لڑکیوں کے سکول میں دو استانیوں کے علاوہ کوئی اور عملہ نہیں ہے۔

لڑکیوں کے سکول کے باہر، گاؤں کے سکول نہ جانے بچے اکثر سکول کے اندر داخل ہو کر سکول کے بچوں کو تنگ کرتے ہیں۔ گیٹ پر گارڈ نہیں ہے اور یہ لڑکے پتھر بھی اندر پھینکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ہیڈ ٹیچر شفقت نبیلہ کا کہنا ہے کہ سکول کے پانچ جماعتوں کے لیے تین استانیوں ہونی چاہییں لیکن دو ہی ہیں۔ وہ اعتراف کرتی ہیں کہ ٹیچر اور عملے کی کمی کی وجہ سے بچوں کو توجہ نہیں ملتی لیکن انہوں نے حکومت سے کئی بار درخواست کی ہے جو سنی نہیں گئی۔ تاہم، جب ان سے پوچھا گیا کہ لڑکیوں کے سکول میں کتنے بچے پڑھتے ہیں، تو انہیں خود معلوم نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ماہ نور چھ سال کی ہیں۔ ان سے جب سبق کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ شرما گئیں، لیکن فخر سے بتایا کہ جھاڑو بہت اچھا دیتی ہیں۔ سکول میں روز کلاس شروع ہونے سے پہلے بچیاں خود سکول کی صفائی کرتی ہیں کیونکہ عملہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

گاؤں میں شکایت ہے کہ دو سال قبل اس سکول کو ماڈل سکول قرار دیا گیا تھا جس کے بعد لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے پڑھتے ہیں۔ ہیڈ ٹیچر کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کی وجہ سے بہت سے والدین نے اپنی بچیوں کو سکول سے نکال لیا تھا۔

سماجی کارکن سریا منظور کہتی ہیں کہ وہ بچوں اور والدین کو بہت محنت سے راضی کر کے سکولوں میں بھرتی کرواتی ہیں لیکن ریاست اپنی زمہ داری پوری نہیں کرتی۔ سرکاری سکولوں میں عملہ نہیں ہوتا، پینے کا صاف پانی اور نہ واش روم۔ ”جب والدین اور بچوں کو اچھا موحول نہیں میسر ہو گا تو وہ کیوں اپنے بچوں کو سکول بھیجیں گے؟”