پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز بنانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ناہید خان کی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ طویل وابستگی ہے

سابق وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو کی دیرینہ ساتھی ناہید خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر ڈاکٹر صفدر عباسی نے جمعرات کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کے نام سے ایک نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اس نئی جماعت کی تشکیل کا اعلان لاہور میں ایوان اقبال میں ناراض اور پرانے پارٹی کارکنوں کے ایک کنونشن کے دوران کیا گیا۔

ناہید خان سے بات چیت سنیے

کنونشن میں شامل کارکنوں نے ایک قرارداد کے ذریعے ڈاکٹر صفدر عباسی کو جماعت کا پہلا صدر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔

بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں ناہید خان نے نئی سیاسی جماعت بنانے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہونے والے ناراض کارکنوں کوئی متبادل فراہم کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ یہ گروپ پیپلز پارٹی کے لیے دیوار کا کام کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکن اور ورکر ایسے ہیں جن کے پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے شدید اختلاف ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بے نظیر کے لانگ مارچ میں بھی ناہید خان بے نظیر بھٹو کے شانہ بشانہ تھیں

انھوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکن سمجھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا جو نظریہ تھا اسے پارٹی پر قابض موجودہ لوگوں نے بہت دور کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ پارٹی پاکستان کے پسے ہوئے طبقوں کی پارٹی تھی جن کے حقوق کی جنگ ذوالفقار علی بھٹو نے لڑی، لیکن اس پارٹی کی موجودہ قیادت نے خود کو ایوانوں تک محدود کر دیا اور پارٹی کو خاندانی جاگیر بنا کر چلایا جا رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں پاکستان کے ناراض ورکروں سے معافی مانگی تھی اور اس کے بعد انھوں سیاست میں آنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔

ناہید خان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں بلاول کے معافی مانگنے پر دکھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلاول کا تو کوئی قصور نہیں تھا لیکن انھیں پارٹی ورکروں سے معافی مانگنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔

ناہید خان نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اور پارٹی کے دیگر ناراض ورکر جو کچھ کہتے رہے ہیں، اس پر بلاول بھٹو نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’ہم یہ درست کہتے تھے کہ پارٹی کو تباہ و برباد کر کے اسے صرف سندھ کی پارٹی بنا دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا ہے اگر ان کو پارٹی سے نہ نکالا گیا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں گئی تو اس معافی تلافی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ناہید خان بے نظیر بھٹو کی ایک عرصے تک دست راست رہی ہیں

ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ نئی پارٹی بنانے پر نہ مبارکباد وصول کر رہی ہیں اور نہ ہی افسوس کا اظہار کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت تھی۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی ورکروں کو پارٹی سے کوئی علیحدہ نہیں کر سکتا: ’ہماری وفا گڑھی خدا بخش میں ان دو قبروں سے ہے۔‘

پارٹی کے مستقبل اور ممکنہ اتحاد کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ان کی دعائیں اور نیک تمنائیں بلاول کے ساتھ ہیں۔

ناہید خان نے کہا کہ بلاول کے سامنے راستہ بڑے واضح ہے کہ وہ گذشتہ سات سال میں جو ان کے والد صاحب اور ان کے خاندان کا جو بوجھ ہے اس کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا کھل کر اپنے نانا اور اپنی والدہ کے نظریے اور ورثے کو ساتھ لے کر چلانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں