نکیال میں فوج کی’غیر معمولی نقل و حرکت‘، کشیدگی برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption علاقے میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تعیناتیاں معمول کے مطابق دکھائی نہیں دیتیں:عینی شاہدین

جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر حالات بدستور کشیدہ ہیں اور نکیال سیکٹر میں سرحد کے دونوں جانب فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت کی اطلاعات ملی ہیں۔

نکیال سیکٹر کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب داتوڑ کے علاقے میں فائرنگ بھی کی ہے تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مظفر آباد سے صحافی مرزا اورنگزیب نے بی بی سی اردو کے پروگرام جہاں نما میں بتایا کہ مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں اور مقامی آبادی نے نکیال میں تعینات افواج کی تعداد میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔

تاہم پاکستانی اور بھارتی فوج کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

نکیال سیکٹر میں انتظامیہ کے مطابق گذشتہ شب سرحد کے دونوں جانب افواج کی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تعیناتیاں معمول کے مطابق دکھائی نہیں دیتیں۔

اس سے قبل پاکستانی دفتر خارجہ نے الزام عائد کیا تھا کہ بھارتی سرحدی افواج نے جمعرات کی صبح سیالکوٹ کی سرحد پر گولہ باری کی آڑ لے کر نئے فوجی مورچے بنانے کی کوشش کی ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے مطابق بھارتی افواج نے ورکنگ باؤنڈری کے قریب مورچے تعمیر کرنے کے لیے پاکستانی فوجی چوکیوں پر فائرنگ کی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان اور بھارتی فوج کے مابین لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پرگذشتہ چند ہفتوں سے گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے

انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ورکنگ باؤنڈری کے پانچ سو میٹر کی حدود میں نئے مورچے تعمیر نہیں کیے جا سکتے: ’اسی لیے پاکستانی افواج نے بھی جوابی فائرنگ کی اور بھارتی فوجوں کو نئے مورچے تعمیر کرنے سے روک دیا۔‘

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اس ’بھارتی اشتعال انگیزی کا محتاط جواب دیا ہے۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج کے برعکس پاکستان کو سرحد کے اس پار رہنے والے کشمیروں کی جان و مال کا تحفظ عزیز ہے اس لیے پاکستان نے بھارتی فائرنگ کا بہت محتاط جواب دیا ہے۔

پاکستان اور بھارتی فوج کے مابین لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پرگذشتہ چند ہفتوں سے گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے جس میں متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

اس کشیدگی کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان طے شدہ مذاکرات بھی منسوخ کر دیے گئے تھے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے اس کشیدگی میں اضافے کی ذمہ داری بھارت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے بھی اٹھایا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دفتر خارجہ ان اس مسئلے پر مختلف ملکوں کے سفیروں کو اسلام آباد میں بریفنگز دی ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط بھی لکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں