بجلی بحران: مائع قدرتی گیس کی پہلی کھیپ فروری میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قطر سے درآمد کی جانے والی اس مائع گیس کو اس سال اکتوبر میں پاکستان پہنچنا تھا لیکن تکنیکی مسائل کی بنا پر اس میں تاخیر ہوئی ہے

پاکستان میں توانائی کے بحران کو کم کرنے کے لیے بیرون ملک سے آنے والی مائع قدرتی گیس کی پہلی کھیپ اگلے سال فروری میں پاکستان پہنچے گی جسے بجلی بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

یہ بات وزیر اعظم نواز شریف کی زیرِ سربراہی توانائی کے بحران پر ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی بین الوزارتی اجلاس کو بتائی گئی ہے جس میں متعدد وفاقی وزرا اور توانائی کے شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے قطر سے پاکستان پہنچنے والی اس گیس کو کوٹ ادو اور جامشورو پاور پلانٹ اور اس کے علاوہ نجی شعبے میں چلنے والے تین دیگر بجلی گھروں کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اس مائع گیس کو استعمال کر کے یہ بجلی گھر مجموعی طور پر 2500 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کر سکیں گے۔

قطر سے درآمد کی جانے والی اس مائع گیس کو اس سال اکتوبر میں پاکستان پہنچنا تھا لیکن تکنیکی مسائل کی بنا پر اس میں تاخیر ہوئی ہے۔

اس گیس کے استعمال کے بارے میں بھی غیر یقینی صورت حال پائی جاتی تھی کیونکہ مختلف شعبے اس گیس پر دعویٰ رکھتے تھے۔

صنعتی شعبے کا کہنا تھا کہ یہ گیس ملکی صنعت کا پہیہ تیز چلانے کے لیے استعمال کی جائے کیونکہ اس سے نہ صرف ملک میں روزگار بڑھے گا بلکہ زر مبادلہ بھی حاصل ہو گا۔ دوسری جانب سی این جی کا شعبہ اس گیس کو عام لوگوں کی گاڑیوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کا خواہش مند تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے یہ جھگڑا جمعے کے روز اعلیٰ سطحی اجلاس میں نمٹاتے ہوئے کہا کہ نہ صرف یہ کھیپ بلکہ اس کے بعد بھی درآمد ہونے والی مائع گیس ملک میں کام کرنے والے بجلی گھروں کو ہی فراہم کی جائے گی۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس کو بتایا کہ دو ارب مکعب فٹ گیس کی درآمد پر کام کی رفتار میں اضافہ کیا جائے تاکہ یہ گیس بھی بجلی بنانے کے لیے استعمال کی جا سکے۔

وزیراعظم کو بتایا گیا ہے کہ اس گیس سے 15000 میگا واٹ بجلی اضافی پیدا کی جا سکتی ہے جس سے ملک میں بجلی کی مانگ مکمل طور پر پوری کی جا سکے گی۔

اسی بارے میں