پاکستان ایران سرحد پر دوبارہ شیلنگ، کشیدگی میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption پاکستان اور ایران کی سرحدی فورسز کے درمیان حالیہ دنوں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جمعے کو پاکستانی علاقے میں مارٹرگولے داغے گئے ہیں جس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے بھی کارروائی کی ہے۔

یہ ایک ہفتے میں ایرانی فورسز کی جانب سے پاکستان کی سرحدی علاقے میں کارروائی کا دوسرا واقعہ ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جمعے کی صبح چار بجے کے قریب ضلع واشو کی تحصیل ماشکیل میں چھ مارٹر گولے داغے گئے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایرانی کارروائی کے جواب میں پاکستانی سرحدی فورسز نے بھی کارروائی کی ہے۔

تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی سرکاری بیان جاری کیا جائے گا۔

17 اکتوبر کو ایران کی سکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستان کی سرحد کے اندر مبینہ کارروائی میں فرنٹیئر کور کا ایک صوبیدار ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

فرنٹیئر کور نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ایف سی کے اہلکار ایران کی سرحدی فورس کے اہلکاروں کی بلا اشتعال فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے تھے ۔

ایف سی نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ایرانی فورسز کے 30 اہلکار سرحدی حدود کی خلاف ورزی کر کے ایک اور سرحدی ضلع چاغی میں داخل ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور بھارت کر سرحدی فورسز کے درمیان ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر کئی روز سے وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے

اس واقعے پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایران سے احتجاج بھی کیا تھا جبکہ اس کے بعد ایرانی وزرت خارجہ نے تہران میں پاکستانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستانی سرزمین سے ’دہشت گردوں اور ڈاکوؤں‘ کی ایرانی سرزمین پر پرتشدد کارروائیوں پر پاکستان سے احتجاج کیا ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’اِرنا‘نے ایرانی وزارت خارجہ کے دفتر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کے سفیر نور محمد جدمانی کو سنیچر 18 اکتوبر کی شام ’دونوں ممالک کی درمیانی سرحد پر ہونے والے ان واقعات کی وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا جن کے نتیجے میں ایران کے کئی سرحدی محافظ ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔‘

پاکستان اور ایران کی سرحد کی کشیدگی کے بعد گذشتہ بدھ کو ایرانی دارالحکومت تہران میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل محمد اعجاز شاہد اور ایرانی بارڈر پولیس کے چیف جنرل قاسم رضائی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سرحد پر نگرانی کو فعال بنانے اور باہمی تعاون پر زور دیا گیا تھا۔

پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات اس وقت تاریخ کی بدترین سطح پر کہے جا سکتے ہیں جہاں ایک طرف بھارت کے ساتھ سرحدوں پر کشیدگی جاری ہے جبکہ افغانستان کی سرحد پر بھی شدت پسندی کے واقعات اور سرحدی خلاف ورزیوں کے الزامات آئے روز سامنے آتے ہیں اور اب ایران کے ساتھ سرحد پر کشیدگی نے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔

اس کے علاوہ چین کی جانب سے بھی اس کے پاکستان سے متصل صوبے سنکیانگ میں جاری شورش کے حوالے سے دبے الفاظ میں پاکستان کے کسی نہ کسی سطح میں ملوث ہونے کا تذکرہ سننے کو ملتا ہے۔

اسی بارے میں