پولیو:’عوامی رویے میں تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 2014 میں پاکستان میں پولیو کے نئے مریضوں کا 14 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے انسدادِ پولیو کے عالمی دن کے موقع پر ملک سے اس مرض کے جلد خاتمے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے ملک میں پولیو ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔

پاکستان دنیا میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور رواں برس یہاں پولیو کے 200 سے زیادہ نئے مریض سامنے آ چکے ہیں جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔

وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جمعے کو پولیو کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر وزیرِ اعظم ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ملک کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے جامع آگاہی حکمتِ عملی وضع کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور جلد ہی پاکستان پولیو سے آزاد ملک بن جائےگا۔

بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس حکمتِ عملی کے تحت پولیو کے قطرے پینا ہر بچے کا حق قرار دیا گیا ہے اور معاشرے کے پر طبقے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو ان کا یہ حق دیں۔

نواز شریف نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے مرض کے خاتمے کیلیے حکومتی کوششوں کے حصہ بنیں اور اپنے بچوں کو پولیو ویکسین ضرور پلائیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیرِ اعظم نے پولیو ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ حکومتی کوششوں کے نتیجے میں پولیو مہم کے تئیں عوام کے رویے میں تبدیلی آئے گی اور یہ مہم زیادہ کارگر ثابت ہوگی۔

پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ والدین کی جانب سے قطرے پلوانے سے انکار اور پولیو کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیو کے مرض کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستانیوں پر بیرون ملک سفر کے حوالے سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں

دسمبر 2012 سے اب تک پولیو مہم میں شریک ہیلتھ ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں سمیت 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سنہ 2014 کے آغاز پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت نے پولیو کے مرض کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستانیوں پر بیرون ملک سفر کے حوالے سے پابندیاں عائد کی تھیں۔

ان پابندیوں کے تحت پاکستان سے بیرون ملک جانے والوں کو روانگی پر یہ سرٹیفیکیٹ فراہم کرنا ہوتا ہے کہ انھوں نے پولیو ویکسین پی ہے۔

پولیو کا مرض اب صرف دنیا کے تین ممالک میں پایا جاتا ہے جن میں پاکستان کے علاوہ نائجیریا اور افغانستان شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق جہاں پاکستان میں 2014 میں پولیو کے ریکارڈ مریض سامنے آئے ہیں وہیں نائجیریا اور افغانستان میں اس مرض کے پھیلاؤ میں کمی دیکھی گئی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ جہاں اس برس پاکستان میں اب تک پولیو کے 206 مریض سامنے آ چکے ہیں وہیں نائجیریا میں اس برس صرف چھ بچوں میں پولیو کی تشخیص ہوئی جبکہ گذشتہ سال ایسے مریضوں کی تعداد 49 تھی۔

یونیسف کے مطابق اِسی طرح افغانستان میں بھی پولیو کے وائرس کا پھیلاؤ انتہائی کم ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، پولیو سے متاثرہ تین ممالک دنیا بھر کے بچوں کے لیے خطرہ ہیں اور شام، صومالیہ، عراق، کیمرون اور وسطی گِنی میں موجود وائرس کی جڑیں پاکستان اور نائجیریا سے ملی ہیں۔

اسی بارے میں